کینسر کے علاج کی درست خبر دینے والا بلڈ ٹیسٹ

سنگاپور سٹی: (کوہ نور نیوز،ویب ڈیسک) طبی تاریخ میں پہلی مرتبہ خون کا ایک ٹیسٹ وضع کیا گیا ہے جو طبیبوں کو یہ بتاتا ہےکہ سرطان کے خلاف جاری علاج کتنا مؤثر ہے اور اس میں کیا کچھ ترمیم کی ضرورت ہے۔ ایک عرصے سے اس کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ کسی طرح کوئی ٹیسٹ یہ بتاسکے کہ سرطان کے علاج کا اثر ہورہا ہے یا نہیں؟ خوش قسمتی سے یہ نیا ٹیسٹ 24 گھنٹے میں نتیجہ ظاہرکرتا ہے جو نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے حیاتی طبعیات داں شاؤ ہوئلین اور ان کے ساتھیوں نے وضع کیا ہے۔ اس ٹیسٹ میں بالخصوص خون کے خلیات کے درمیانی جگہوں یا وقفوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے ٹیسٹ کا نام ایکسٹرا سیلولر ویسیکل مانیٹرنگ آف اسمال مالیکیول آکیوپینسی اینڈ پروٹین ایکسپریشن ExoSCOPE کا نام دیا گیا ہے۔ خلیات کے باہرچھوٹے جوف یا خلا کو ایکسٹرا ویسیکلز یا ای وی کہا جاتا ہے۔ درحیقیقت یہ خلیات سے خارج ہونے والے باریک ذرات ہوتے ہیں۔ اگرکوئی دوا سرطانی پھوڑے تک گئی ہے تو وہ سرطانی خلیات (کینسرسیلز) سے خارج ہوکر تھوڑی بہت باہر نکلے گی اور ای وی میں بھی پہنچے گی۔ اس سے ماہرین کو معلوم ہوجاتا ہے کہ دوا اپنے درست مقام تک پہنچ رہی ہے۔ اس سے قبل ماہرین دوا کی تاثیرمعلوم کرنے کے لیے تصویر کشی اور دیگر طریقے استعمال کرتے تھے لیکن اس کا نتیجہ ہفتوں بعد ہی برآمد ہوتا تھا۔ اس کے مقابلے میں ایگزاسکوپ خون کا ٹیسٹ صرف 24 گھنٹے میں اپنا نتیجہ فراہم کرتا ہے۔ اس طرح کینسر کے علاج کا خرچ اور دورانیہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ واضح رہے کہ انسانی خون کے خلیات میں پائے جانے والے ای وی انسانی بال سے بھی سینکڑوں گنا باریک ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے بھانپنے کے لیے خاص سینسر بنایا گیا ہے۔ اس سینسر میں کروڑوں نینو چھلے ہیں جو خون میں دوا کی مقدار کو کسی محدب عدسے کی طرح بڑھا کرکے دکھاتے ہیں۔ اس طرح خون کے اس ٹیسٹ کو انقلابی قرار دیا جارہا ہے کیونکہ یہ فوری طور پر کینسر تھراپی کے اثر کو ظاہر کرتا ہے۔