حکومت نے عوام کو تکلیف کے علاوہ کچھ نہیں دیا: شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد: (کوہ نور نیوز) شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک میں بجلی ہے نہیں، ریٹ بڑھا دیئے گئے، فرنس آئل پر چلنے والے پلانٹس ڈیزل پر چلائے جا رہے ہیں، گردشی قرضہ 150 فیصد بڑھ گیا، حکومت نے عوام کو تکلیف کے علاوہ کچھ نہیں دیا، حکمرانوں کی نااہلی اور کرپشن نے پورا ملک تباہ کر دیا۔ اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کے پارٹی سیکرٹریٹ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سینئر نائب صدر مسلم لیگ ن شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت کے اکنامک سروے زیادہ ضرورت نہیں کیونکہ ملک کے عوام آج بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کا شکار ہیں، سارے اسلام آباد کے سکولوں میں بچے بے ہوش ہو رہے ہیں، دارالحکومت کا یہ حال ہے باقی ملک میں کیا ہوگا ؟ حکومت نااہل ہے اور وزارت توانائی میں ساتویں وزیر مقرر کئے جاچکے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پچھلا وزیر روتا رہا کہ نواز شریف نے مہنگی فالتو بجلی پیدا کر دی، حقیقت یہ ہے کہ اس حکومت کے دور میں گردشی قرضے میں 1500 ارب کا اضافی ہوا، سعودی عرب اور کویت بھی ڈیزل کے پلانٹ نہیں چلاتے لیکن پاکستان میں چل رہے ہیں، اتنی مہنگی بجلی کیوں بنائی جا رہی ہے، وزیروں اور مشیروں سے گزارش ہے جھوٹ بولنے سے پہلے بیان ملا لیا کریں۔ لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ گردشی قرضہ ڈیڑھ سو فیصد بڑھ گیا ہے، معیشت تباہی ہو چکی، کوئی ایسا پیمانہ ہے جس پر ملک نے ترقی کی ہو ؟ وال سٹریٹ جنرل کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے اڈے دے کر آئی ایم ایف سے قرضہ لیا ہے، ملک کے اندر جو بجلی موجود ہے اس میں سے آدھی نواز شریف نے بنائی تھی، اگر ہم بجلی نہ بناتے تو عوام کو صرف آٹھ گھنٹے بجلی ملتی۔ شاہد خاقا عباسی نے مزید کہا کہ یہ حکمران عوام کے مسائل سے نابلد ہیں، حکمران 2018 کا الیکشن چرا کر آئے، یہ عوامی مسائل کا شعور رکھتے ہیں نا حل کر سکتے ہیں، یہ الیکشن چرا کر عوام پر مسلط کیے، اگر ہماری حکومت ہوتی تو جی ڈی پی 358 ارب ہوتی، ہم آئی ایم ایف سے دفاعی سودوں کے زریعے قرضہ نہ لیتے، جب بھی الیکشن چوری ہوں گے تو مسائل کھڑے ہوں گے، بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو گی ملک پیچھے جائے گا، جس آدمی نے اٹھارہ ماہ میں تین پلانٹ لگائے ہم نے اسے تین سال جیل میں رکھا، آج ملک کے کرپٹ ترین ادارے نیب کے سربراہ کو ایکسٹینشن دینے کی کوشش ہو رہی ہے۔