مسلسل 8 برس تک ناک سے بدبو خارج کرنے والا بچہ شفایاب

واشنگٹن: (کوہ نور نیوز) کئی برس سے ناک کی بندش، نتھوں سے مسلسل بدبوکے اخراج کے بعد آخرکار معلوم ہوگیا کہ بچے کے ناک میں پھنسا پلاسٹک کا ایک چھّرا اس کی بنیادی وجہ تھا۔ 8 برس کی عمر میں ایک بچے ( طبی وجوہ کی بنا پر نام ظاہر نہیں کیا گیا) نے شکایت کی کہ اس کا ناک بند ہے۔ یہ سلسلہ کئی برس تک چلتا رہا اور اس کے بعد گویا سونگھنے کی صلاحیت مکمل طور پر ختم ہوگئی۔ لیکن جب جب وہ ناک سے سانس باہر نکالتا اس سے بدبو کے بھبھکے اٹھتے جو اس کے علاوہ بقیہ تمام افراد کو محسوس ہوتی۔ طبی تاریخ میں اسے ایک غیرمعمولی واقعہ قراردیا گیا ہےجس کی تفصیل ’جرنل آف امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کے جریدے ہینڈ اینڈ نیک سرجری‘ میں شائع ہوئی ہے۔ پہلے ڈاکٹروں نے لچکدار تارکی مدد سے ایک کیمرہ ناک میں ڈالا تو معلوم ہوا کہ اب اس وقت 16 سالہ نوعمر لڑکے کو ’ٹربائنیٹ ہائپرٹرافی‘ کا مرض لاحق ہے جس میں ناک کے باریک راستے بڑے ہوجاتے ہیں۔ ایسا عموماً الرجی یا کسی اور وجہ سے ہوتا ہے۔ تاہم یہاں معاملہ مختلف نکلا۔ ڈاکٹروں نے اسے کچھ دوائیں دیں جو بے کار ثابت ہوئیں۔ لیکن جب جب وہ اپنے ناک سے ہوا نکالتا تو اس کی بدبو پورے کمرے میں پھیل جاتی تھی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ خود مریض کو اس کا احساس تک نہ تھا کیونکہ وہ سونگھنے کی حِس سے محروم ہوچکا تھا۔ اس کے بعد ڈاکٹروں نے بچے کا تفصیلی سی ٹی اسکین کیا تو معلوم ہوا کہ اس کے ناک میں اوپر کی جانب پاسٹک کا ایک گول دانہ پھنسا ہے۔ لیکن اسے کبھی بھی اس کا احساس نہیں ہوا۔ پلاسٹک کا یہ ٹکڑا اس وقت ناک میں پھنسا تھا جب بچے کی عمر آٹھ یا نو برس تھی۔ کھیل کھیل میں ایک چھّرا اس کی ناک میں گھس گیا جسے وہ محسوس نہ کرسکا۔ یونیورسٹی آف ٹٰیکساس کے پروفیسر ڈیلان اروِن مطابق ناک کی ایک نالی بند ہونے سے وہاں مائع، اندر جانے والی گردوغبار اور ان میں موجود جراثیم اور بیکٹیریا کئی عرصے تک موجود تھے اور گلتے سڑتے رہے۔ یہاں تک کہ وہاں سے گزرنے والے ہوا اپنے ساتھ بدبو لے کر باہر نکل رہی تھی۔ اس کیفیت میں مریض کو بخارنہیں ہوتا اور نہ ہی پورے بدن میں انفیکشن پھیلتا ہے۔ اس مریض کے ساتھ بھی یہی ہوا اور اس کا مرض بار بار نظرانداز ہوتا رہا۔ پھر پلاسٹک کے دانے پر کئی بافتوں کے غلاف چڑھ گئے اور یوں وہ شناخت نہ ہوسکا ۔ اسے ماہرین نے بہت کوشش کے بعد نکالا اور بہت احتیاط سے ان ٹشوز کو کاٹا جو اس پر جمع ہوچکے تھے۔