علی زیدی کے افسوسناک رویے کا موقع پر جواب کیوں نہیں دیا ؟ ناصر حسین شاہ نے حیران کن وجہ بیان کر دی

کراچی (کوہ نور نیوز)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ چیف منسٹر ہاؤس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) والے ہمارے مہمان کے طور پر آئے تھے تو ہماری کچھ روایا ت ہیں لیکن وہاں جو واقعہ پیش آیا وہ انتہائی افسوسناک تھا، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے،ہمیں دلی طور پر افسوس ہے کہ علی زیدی کے رویہ پر ہمیں اسی وقت ہی جواب دینا چاہئے تھا لیکن اپنی تہذیب کی وجہ سے ہم نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اس واقعہ پر وزیر اعلی سندھ نےسنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور ایک خط وزیر اعظم کو لکھا،پھر سب نے دیکھا کہ اس خط کو پبلک بھی اُنہی کی طرف سے کیا گیا،ا س پر پوائنٹ سکورنگ کی کوشش بھی کی گئی کہ کراچی کے معاملے کو اُنہوں نے اٹھایا،ایسی کوئی بات نہیں ہوئی، نہ جانے علی زیدی کو کیا ہوا؟ اگر وہ کراچی اور شہر کے مسائل کے حل کرنے میں مخلص ہیں تو کیا وفاقی وزیر اسد عمر کراچی کے معاملات پر مخلص نہیں ہیں اور وہ ان کے ساتھ اٹھ کر کیوں نہیں گئے؟۔ اُنہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر امین الحق بھی اجلاس میں موجود تھے، کیا وہ کراچی کے معاملات پر مخلص نہیں ہیں؟ اجلاس میں وزیراعلی سندھ کی خصوصی دعوت پر پی ٹی آئی کے انجینئر نجیب بھی موجود تھے، اُنہوں نے واک آوٹ یا بائیکاٹ نہیں کیا؟ذاتی طور پر علی زیدی کے ساتھ میرے اچھے تعلقات ہیں، ان کو کیا ہوا میں خود بہت حیران ہوں،ان کو کیا پریشانی تھی؟وزیراعظم کی جانب سے کچھ وزراءکو فارغ کرنے کی باتیں چل رہی تھیں، شاید اس میں ان کا نام شامل تھا،اس لئے وہ پریشان تھے؟ علی زیدی کیا چاہ رہے تھے،اجلاس احسن طریقے سے چل رہا تھا، جس میں تمام اداروں کے سربراہان شامل تھے۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہاکہ اس موقع پر علی زیدی کا انداز گفتگو ہی غلط تھا،اس کے بعد وہ ایک دم اٹھے اور فائلیں پھٹخ دیں اور بولتے ہوئے باہر چلے گئے، ہم اپنی روایات کی وجہ سے مجبور تھے لیکن ان کا رویہ نامناسب تھا،ا س معاملے کے ثبوت وزیراعظم کے سامنے رکھے جائیں گے اور ہو سکتا ہے کہ ہم ان کو پبلک بھی کر دیں تاکہ قوم کو بھی ان رویوں اور طریقہ کار کا علم ہو سکے۔