پچھلی حکومتوں نے نظام انصاف کو خراب کرکے لا قانونیت سے فائدہ اٹھایا، وزیراعظم

اسلام آباد: (کوہ نور نیوز) وزیراعظم عمران خان کی زیرِ صدارت کریمینل جسٹس سسٹم میں اصلاحات اور صوبوں و اسلام آباد میں سول پروسیجر کوڈ پر عملدرآمد پر اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم، اٹارنی جنرل خالد جاوید خان، صوبائی وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت، صوبائی وزیر قانون خیبر پختونخوا سلطان محمود خان اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ اصلاحاتی عمل کی جامع حکمت عملی مرتب کرنے کے لئے 13 شعبوں کی نشاندہی کرکے علیحدہ علیحدہ ٹاسک فورسز بنائی گئی تھیں جن کی سفارشات عملی شکل اختیار کرنے کے لیے تیار ہیں، ان 13 شعبوں میں کیس کا اندراج، گرفتاری اور ایف آئی آر کا نظام، پولیس اسٹیشنز کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ان کو کمپیوٹرائز کرنے، فنڈز کی پولیس اسٹیشنز کو براہِ راست منتقلی اور اسٹیشن انچارج کو پرنسپل اکاؤنٹگ آفیسر کا درجہ دینے، تفتیشی نظام کو مضبوط کرنے، چالان کے نظام میں بہتری لانے، آزاد پراسیکیوشن کے قیام، پراسیکیوشن کو مقدمات کی نوعیت کے لحاظ سے کیسسز کی جانچ سےکورٹس پر دباؤ کم کرنا، ٹرائل کے طریقے کو آسان اور تیز کرنا، کورٹس کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائز کرنا، پروبیشن اور پیرول کے نظام کو مضبوط کرنا شامل ہیں۔ وزیر قانون فروغ نسیم نے اجلاس کو بتایا کہ اصلاحات کے حوالے سے تمام آئینی معاملات کو حل کرکے سول پروسیجر کوڈ کا نفاذ ہورہا ہے، اس کے علاوہ وزیراعظم کو پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اصلاحات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ شعبہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور گورننس میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس پر ترجیحی بنیادوں پر کام یقینی بنایا جائے، اقوام عالم کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو وہی قومیں ترقی کرسکی ہیں جو لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے منظم اور مضبوط انصاف کا نظام لے کر آئیں، پچھلی حکومتوں نے انصاف کے نظام کو خراب کرکے لا قانونیت سے فائدہ اٹھایا، حکومت نظام کو ترجیحی بنیادوں پر ٹھیک کرنے کیلئے تمام مطلوبہ وسائل فراہم کرے گی لہذا اس حوالے سے اہداف کا تعین کرکے ان کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے۔