خاتون زندہ لیکن عدالت ماننے کو تیار نہیں

پیرس: (کوہ نور نیوز،ویب ڈیسک) فرانس سے ایک عجیب و غریب خبر سامنے آئی ہے جہاں پر فرانسیسی خاتون جین پاؤچین زندہ و سلامت ہیں لیکن عدالت اس بات ماننے کو تیار نہیں۔ برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق فرانسیسی عدالت کی طرف سے مردہ قرار دیے جانے کے بعد مسلسل تین برس سے جین پاؤچین یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ وہ زندہ ہیں۔ 58 برس کی خاتون کا کہنا ہے کہ میں ایک وکیل سی ملی اور اس نے کہا کہ یہ معاملہ بہت جلد حل ہوجائے گا۔ میں اپنے ڈاکٹر کے پاس گئی اور اس نے میرے زندہ ہونے کا سرٹیفیکیٹ دیا لیکن یہ بھی کام نہ آیا۔ خاتون کے وکیل نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ پاگل کر دینے والی کہانی ہے۔ مجھے یقین نہیں آتا۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک جج ڈیتھ سرٹیفیکیٹ کے بغیر کسی کو مردہ قرار دے سکتا ہے۔ مگر مدعی نے ثبوت دیے بغیر دعویٰ کیا کہ خاتون مر چکی ہیں اور سب نے یقین کر لیا۔ کسی نے تصدیق کرنے کی زحمت نہ کی۔ فرانس کے شہر لیون کی عدالت نے جین پاؤچین کی کمپنی میں کام کرنے والی ایک سابقہ ملازمہ کی طرف سے دائر کیے گئے مقدمے کی دس برس سے زیادہ عرصے تک سماعت کی اور 2017 میں کمپنی کی مالکن کو مردہ قرار دے دیا۔ رپورٹ کے مطابق جین پاؤچین نے نقصان کے بعد اپنی کمپنی بند کر دی تھی لیکن عدالت نے 2004ء میں انہیں حکم دیا کہ وہ سابقہ ملازمہ کو ہرجانہ ادا کریں۔ یہ مقدمہ جین پاؤچین پر نہیں بلکہ ان کی کمپنی کے خلاف دائر کیا گیا تھا لیکن فیصلے پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ 2009 میں ملازمہ نے دوبارہ ہرجانے کا دعویٰ کیا لیکن عدالت نے کیس خارج کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق ملازمہ نے 2016 میں ازسر نو کیس دائر کیا اور کہا کہ اس نے جین پاؤچین کو کئی خط لکھے لیکن ان کا جواب نہیں آیا۔ ملازمہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ مر چکی ہیں۔ عدالتی فیصلے کے بعد جین پاؤچین کو سرکاری ریکارڈ سے خارج کر دیا گیا ہے اور ان کا بینک اکاؤنٹ، ہیلتھ انشورنس اور ان کو زندہ ثابت کرنے والے دیگر سرکاری ریکارڈز کو بھی منسوخ کر دیا گیا۔ جین پاؤچین نے عدالت کو کہا ہے کہ سابق ملازمہ ان کے ورثا سے ہرجانے کی رقم اینٹھنے کے لیے ان کو مردہ ثابت کرنا چاہتی ہیں۔ تاہم ملازمہ کے وکیل نے عدالت سے کہا ہے کہ جین پاؤچین جان بوجھ خود کو مردہ ثابت کرنا چاہتی ہیں تاکہ وہ ہرجانے کی رقم ادا نہ کریں۔ وہ ہمت نہیں ہاریں گی اور یہ ثابت کریں گی کہ وہ زندہ ہیں۔