مصنوعی ذہانت سے پروٹین فولڈنگ کا 50 سالہ مسئلہ حل

نیویارک: (کوہ نور نیوز) پروٹین سمٹاؤ یعنی فولڈنگ ایک پیچیدہ حیاتیاتی عمل ہے جس پر ماہرین ایک عرصے سے غور کررہے تھے۔ فولڈنگ کا پیچیدہ عمل سپرکمپیوٹنگ اور ڈسٹری بیوٹنگ کمپیوٹنگ کے بغیر بھی حل نہیں ہورہا تھا لیکن اب ڈیپ مائنڈ اے آئی (آرٹیفشل انٹیلیجنس) کی بدولت یہ معمہ چند گھنٹوں میں حل کرلیا گیا۔ پروٹین فولڈنگ ہمارے جسم میں ہونے والا ایک قدرتی عمل ہے جہاں پروٹین کی لمبی زنجیریں سہہ جہتی (تھری ڈی) انداز میں ترتیب پاتی ہیں۔ ہم اتنا جانتے ہیں کہ اگر یہ پروٹین درست انداز میں مرتب ہو تو جسم کے لیے بہتر ورنہ غلط فولڈنگ خطرناک بیماریوں کی وجہ بنتی ہے۔ لیکن یہ پیچیدہ معمہ ایک عرصے سے حل نہیں ہورہا تھا۔ اب گوگل کی ایلفابیٹ کمپنی کے تیار کردہ ڈیپ مائنڈ کی بدولت پروٹین فولڈنگ کے تھری ڈی ساخت کی پیشگوئی کی جاسکتی ہے۔ اس طرح یہ بتاسکتا ہے کہ کس طرح کا پروٹین وجود میں آتا ہے اور اس نے نصف صدی کا وہ مسئلہ حل کردیا ہے جو سائنسدانوں کو پریشان کررہا تھا۔ پروٹین یک جہتی رِبن سے شروع ہوتے ہیں اور آخرکار تھری ڈی انداز میں پیچیدہ شکل بناتے ہیں۔ اس موقع پر مصنوعی ذہانت کا سافٹ ویئر پہلی پروٹینی ادا کو کچھ دیر تک دیکھتا ہے اور اس کی سرگرمی سے پیشگوئی کرتا ہے کہ اس کی تھری ڈی فولڈنگ کس طرح ہوگی۔ اسی طرح کمپیوٹنگ کا عمل یہ بھی بتاسکتا ہے کہ پروٹین کس طرح کے امائنوایسڈ بنائے گئے۔ یوں اے آئی اس کے اگلے ناقابلِ تصور حالات کا ایک خاکہ پیش کرتی ہے۔ 1970 سے سائنسداں پروٹین فولڈنگ کے مسئلے سے دوچار ہیں اور اس کا حل ڈھونڈ رہے تھے۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ اس کے لیے جو حساب کتاب درکار ہے اسے انجام دینے میں کائنات جیسی عمر کا عرصہ درکار ہوگا جو ظاہر ہے اربوں سال پر محیط ہے۔ 2018 میں شروع کیا گیا یہ منصوبہ شروع کیا گیا ۔ اس منصوبے کو الفا فولڈ کا نام دیا گیا ہے۔ اس وقت اس کی کارکردگی بہت اچھی تھی لیکن اب یکدم تیزی آئی ہے۔ جب ایلفا فولڈ کے سامنے 170,000 پروٹینی ساختیں رکھی گئیں اور ڈیٹا بیس دکھایا گیا تو اس نے ایک پورے وضع کردہ پروٹوکول کے تحت 92.4 فیصد درستگی سے پروٹین فولڈنگ کی پیشگوئی ہوئی جو ایک اہم سنگِ میل ہے۔