پتّوں کو فن پاروں میں بدلنے والا انوکھا مصور

ٹوکیو: (کوہ نور نیوز،ویب ڈیسک) جاپان کا ایک مصور درخت کے پتوں کو تصویری فن پاروں میں بدل کر دنیا کو حیران کررہا ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ ’’ریتو‘‘ نامی اس نوجوان نے دراصل ایک ذہنی بیماری سے لڑنے کےلیے پتّوں کو کاٹ کر تصویریں بنانا شروع کی تھیں اور آہستہ آہستہ وہ اس کام کا ماہر بنتا چلا گیا۔ اس وقت سوشل میڈیا پر ’’ریتو‘‘ کے ہزاروں مداح ہیں جبکہ انسٹاگرام پر اپنے اکاؤنٹ lito_leafart کے ذریعے وہ دنیا کے سامنے اپنے فن کے نمونے پیش کرتا رہتا ہے۔ جاپان کے ایک مقامی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ریتو کا کہنا تھا کہ وہ ’’اے ڈی ایچ ڈی‘‘ نامی بیماری کا شکار ہے جس میں کسی ایک چیز پر توجہ مرکوز کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ اسی کیفیت سے چھٹکارا پانے کےلیے ریتو نے درختوں سے پتے توڑے اور انہیں کاٹ کر مختلف شکلیں دینا شروع کردیں۔ ایسی ایک تصویر بنانے میں اسے کئی گھنٹے لگ جاتے تھے لیکن اے ڈی ایچ ڈی کی شدت بہت کم ہوجاتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی مہارت بڑھتی گئی جبکہ نفسیاتی مرض بھی کم سے کم ہوتا چلا گیا۔ آج وہ روزانہ کم از کم ایک فن پارہ بناتا ہے، جو ایک طرح سے اس کےلیے علاج کی حیثیت رکھتا ہے۔