ہڑپہ تہذیب شاید دوہری موسمیاتی شدت سے تباہ ہوئی تھی

ڈبلن: (کوہ نور نیوز،ویب ڈیسک) پاکستان، ہندوستان اور افغانستان تک پھیلی ہوئی، ہزاروں برس قدیم ’ہڑپہ تہذیب‘ کے بارے میں یہ تو کہا جاتا تھا کہ شاید موسم کے اتار چڑھاؤ نے اسے تباہ کیا۔ لیکن اب ایک تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ آب و ہوا کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ دو انتہائی شدید موسمیاتی کیفیات نے ایک کے بعد ایک آبادیوں کو ویران کردیا۔ یہ قحط سالی کے دو ادوار تھے جس میں پہلے موسمِ سرما کی بارشیں روٹھ گئیں اور اس کے بعد اچانک طویل عرصے کی خشک سالی کا دور رہا۔ سینکڑوں برس تک رہنے والی اس کیفیت نے ہزاروں برس سے آباد تہذیب کو تباہ کردیا۔ سائنسدانوں نے ان تبدیلیوں کو موسمی سانحات قرار دیا ہے۔ اب سے 5200 سال قبل یہ تہذیب نمودار ہوئی اور 2600 قبل مسیح میں اپنے عروج پر تھی۔ لیکن اس کی تحریریں ابھی تک نہیں پڑھی گئیں اور اس لحاظ سے ہڑپہ تہذیب پر بہت کم روشنی ڈالی جاسکی ہے۔ یہاں کے لوگ دھات کاری، برتن سازی، شہری منصوبہ بندی ، پانی کی فراہمی اور نکاسی کے بہترین منصوبہ ساز بھی تھے۔ یہاں کے عوامی حمام، پانی کے تالاب، پانی کی فراہمی اور گندے پانی کی نکاسی کا نظام اتنا بہترین تھا کہ رومی تہذیب کے ہم پلہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن 1900 قبل مسیح میں اس کا زوال شروع ہوا اور 1300 قبل مسیح میں ہڑپہ تہذیب صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔ اس زوال کی وجہ ماہرین نے دشمنوں کا حملہ اور کلائمٹ چینج بتایا ہے۔ اب تازہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ 4200 سال قبل ہولوسین عہد میں شمالی نصف کرے میں شدید خشک موسم رہا اور یوں ایک طویل خشک سالی رونما ہوئی۔ یہاں تک گرمیوں کا مون سون بگڑا اور سردیوں کی بارشیں متاثر ہوئیں۔ یونیورسٹی کالج ڈبلن کے نِک اسکروکسٹن نے حال میں دس ایسے قدیم ریکارڈ معلوم کئے ہیں جو ہزاروں سال پہلے کا موسم بہت حد تک درست بتاتے ہیں۔ ان میں بھارتی غاروں میں اسٹیل ایگمائٹس معدن پر تحقیق اور مڈغاسکر کے ارضی آثار شامل ہیں۔ یہ سب مل کر اس وقت کے موسم کی درست تصویر بناتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ 4260 سال قبل اچانک قحط سالی شروع ہوئی۔ اس کے بعد ہڑپہ کے لوگ سرما کی بارشوں کو ترس گئے۔ لیکن اس سے یہ نہیں ہوا کہ پوری تہذیب اور لوگ ختم ہونے لگے۔ ’ یہ تو ٹھیک ہے کہ اس کا نقصان ہوا۔ آثار بتاتے ہیں کہ لوگوں نے وادی سندھ کے بڑے شہر چھوڑ دیئے اور آج کے بھارتی گجرات میں جانے لگے۔ پھر شجراورسبزے کے آثار بتاتے ہیں کہ لوگوں نے سردیوں کے اناج ترک کردیئے اور گرمیوں کی فصل پر توجہ دینی شروع کی۔ سیاست، خوراک اور مقام سب بدل گیا لیکن آبادی نے اس صورتحال میں خود کو ڈھال لیا،‘ نِک نے بتایا۔ لیکن 300 سال بعد موسمِ سرما کی بارشیں تو بحال ہوگئیں لیکن اب ایک خوفناک خشک سالی سامنے آئی ۔ یہ دھیرے دھیرے بڑھی اور کئی سو برس تک گرما کی بارشیں کم ہوئیں۔ اس پورے عرصے میں ہڑپہ شہری سے دیہاتی علاقہ بنا اور آخر کار مٹ گیا۔ لیوزیانہ اسٹٰیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر پیٹر کلفٹ اس سے متفق ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ راجستھان اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا سے بھی ایسے شواہد ملے ہیں۔ اس موسم کے یہ دو وار بھی ہڑپہ کو تباہ کرنے میں شامل تھے۔