پاکستانی ٹیم کو واپس بھیجنے کی دھمکی، شعیب اختر نیوزی لینڈ بورڈ پر برس پڑے

اسلام آباد: (کوہ نور نیوز،ویب ڈیسک) نیوزی لیںڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے پاکستانی ٹیم کو واپس بھیجنے کی دھمکی پر لیجنڈ باؤلر شعیب اختر نے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کوئی کلب ٹیم نہیں، ایسی باتیں ناقابل برادشت ہیں۔ تفصیل کے مطابق نیوزی لینڈ کی طرف سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا دورہ منسوخ کرنے کی دھمکی پر شعیب اختر نے اسے کھری کھری سناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کوئی گری ہوئی ٹیم نہیں اور نہ ہی ہمارے لیے کرکٹ ختم ہوئی ہے۔ شعیب اختر کا کہنا تھا کہ میزبان بورڈ کو سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔ نیوزی لینڈ کو ایس او پیز کی اگر اتنی ہی فکر تھی تو ٹیم کے لئے پورا ہوٹل بک کرا دیتے، جہاں وہ پریکٹس بھی کر سکتے۔ لیجنڈ باؤلر کا کہنا تھا کہ آئندہ ایسی بات کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے۔ انہوں نے اپنے بیان میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ قومی کھلاڑیوں کیلئے چارٹرڈ فلائٹ کیوں نہیں کرائی گئی۔ ادھر دورہ نیوزی لینڈ میں کورونا وائرس کا شکار ہونے والے کھلاڑیوں کے نام سامنے آ گئے ہیں۔ ٹیم انتظامیہ نے ان چھ کھلاڑیوں کو سیلف آئسولیشن پر بھیج دیا ہے۔ کورونا وائرس کا شکار کھلاڑیوں میں سابق کپتان سرفراز احمد، روحیل نذیر، نسیم شاہ، دانش عزیز، عابد علی اور محمد عباس شامل ہیں۔ لاہور سے روانگی کے وقت تمام پاکستانی سکواڈ میں شامل ارکان کے ٹیسٹ منفی آئے تھے۔ اس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) حکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ کیویز بورڈ کے قوانین کے مطابق مثبت آنے والوں کے نام نہیں بتا سکتے۔ ہم میزبان کرکٹ بورڈ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ وسیم خان کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ میں قوانین سخت ہیں، کھلاڑی قرنطینہ میں رہ کر سخت حالات برداشت کر لیں، پھر گھومنے پھرنے کی آزادی ملے گی۔ ایس او پیز پرعمل نہ کیا تو نیوزی لینڈ حکومت واپس بھیج دے گی۔ پاکستان سکواڈ کے نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ پہنچنے کے بعد کرائسٹ چرچ میں پہلی ٹیسٹنگ بدھ کو ہوئی تھی۔ نیوزی کرکٹ بورڈ کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کھلاڑیوں کی جانب سے کویڈ پروٹوکولز کی خلاف ورزی کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ نیوزی کرکٹ بورڈ کے مطابق میں سے دو کو پہلے بھی کورونا ہو چکا ہے۔ متاثرہ کھلاڑیوں کو اپنے اپنے کمروں میں قرنطینہ کر دیا گیا ہے۔