موٹروے زیادتی کیس سے متاثر فلم 'شینوگئی' کب ریلیز ہو گی؟

لاہور: (کوہ نور نیوز) چند ماہ قبل موٹر وے پر خاتون کے ساتھ ہونے والی زیادتی سے متاثر ہو کر ہدایت کار ابو علیحہ نے فلم بنانے کا فیصلہ کیا۔ ہدایت کار ابو علیحہ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر متعدد پوسٹس شیئر کی جس میں انہوں نے بتایا کہ 'موٹر وے زیادتی حادثہ ہوا، اس حادثے سے متعلق سوشل میڈیا پر الباکستانی مجاہدین کے خیالات پڑھے تو جی میں آیا کہ اس پر کچھ نہ کچھ لکھا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ جب کہانی لکھ لی تو زیمیز پروڈکشنز کی بہن عابدہ احمد اور میٹرو لائیو موویز کے عمر خطاب بھائی سے بات ہوئی، دونوں نے کہا کہ مکمل کریٹیو فریڈم کے ساتھ فلم بنائیں، ایک سینما بھی کھلا ہوا تو ہم دسمبر میں ریلیز کریں گے۔ابو علیحہ نے بتایا کہ عورت ٹول نہیں ہے، عورت جنس نہیں ہے، عورت خواہ آپ کی بیٹی بہن ماں بیوی نہ ہو، فقط عورت ہونے کی وجہ سے بھی قابل احترام اور لائق عزت ہے، ہر گھر سے باہر نکلی ہوئی عورت ترنوالہ نہیں ہے، اس کا لباس ترغیب نہیں ہے، اس کا مسکرانا چلنا پھرنا لائسنس ٹو ریپ نہیں ہے یہی شینوگئی کا مرکزی خیال ہے۔ ہدایت کار کا کہنا ہے کہ فلم "شینوگئی" کے مرکزی کردار کے لیے ایسی لڑکی درکار تھی جو ہیوی بائیک نہ صرف چلانا جانتی ہو بلکہ اس پر ہلکے پھلکے اسٹنٹس بھی کرسکے، دو چوائسز تھیں کہ کسی اداکارہ کو لیا جائے اور اسے بائیک چلانا سکھایا جائے یا پھر کسی بائیکر کو لیا جائے اور اسے اداکاری سکھائی جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی پہلی فلم ہے، جس میں سارے اداکار پہلی بار سینما اسکرین کا سامنا کرنے آرہے ہیں، انہوں نے آج تک کسی ٹی وی ڈرامہ تک میں کام نہیں کیا، مرینہ پروفیشنل بائیکر ہیں اور کراچی کے ایک کلب میں فی میل بائیکرز کو بائیک چلانا سکھاتی ہیں اور باقی سب اداکار لیاری و آرٹس کونسل و ناپا کے تھیٹرز سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ایک ماہ کی انتھک شب و روز ریہرسلز و پری پروڈکشن کے بعد ساری ٹیم کو لے کر کنڈ ملیر گیا اور فلم شوٹ کرکے آگیا، پوسٹ پروڈکشن جاری ہے، قوی امید ہے کہ اسی برس دسمبر میں ہی آپ اس فلم کو سینما گھروں میں دیکھ پائیں گے۔