ن لیگ کا شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر کی درخواست نہ دینے کا فیصلہ

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و پارٹی صدر شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر کیلئے اسپیکر کو درخواست نہیں دی جائے گی۔ اپوزیشن جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس خواجہ آصف کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) آئندہ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے منقعدہ کسی بھی تقریب، میٹنگ یا سیمینار میں شریک نہیں ہوگی تاہم لیگی ارکان صرف قومی اسمبلی اجلاس اور قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کیخلاف سخت کارروائی کا عندیہ دے دیا یہ فیصلہ پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے ارکان کو سنایا، ذرائع نے بتایا کہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی کی طرف سے اسپیکر کو قومی اسمبلی اجلاس قواعد و ضوابط کے تحت چلانے کیلئے خط لکھا جائے گا، اگر اسپیکر نے ایوان کو قواعد و ضوابط کے تحت نہ چلایا تو ایوان کو نہیں چلنے دیا جائے گا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ن لیگ شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر کی درخواست نہیں دے گی، اسپیکر نے وزیراعظم کے سامنے سرینڈر کردیا ہے۔ اجلاس میں ایک ن لیگی رکن نے پیپلز پارٹی کی طرف سے آئی جی سندھ کے اغواء کی ایف آئی آر درج نہ کرنے پر تحفظات ظاہر کیے اور کہا گیا کہ پیپلز پارٹی کے ایسے اقدامات سے ان کے بارے شکوک و شبہات بڑھتے ہیں جس پر شاہد خاقان عباسی نے جواب دیا کہ سینیٹ کی طرف سے قائم کمیٹی میں اس بارے بھی جائزہ لیا جائے گا۔ اجلاس میں نواز شریف کے بیانیے کی مکمل تائید اور ان پر بھرپور اظہار اعتماد کیا گیا، اس دوران شاہد خاقان نے ارکان سے کہا کہ وہ نواز شریف کے بیانیے کی مکمل حمایت کریں۔ خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ شہباز شریف سمیت کسی کو بھی پروڈکشن آرڈر نہیں جاری کیے جائیں گے۔