آزاد ایڈجیوڈیکیٹر نے سلیم ملک کی اپیل کا فیصلہ سنا دیا

آزاد ایڈجیوڈکیٹر جسٹس فضل میران چوہان نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک کی درخواست نمٹا دی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آزاد ایڈجیوڈکیٹر کے محفوظ کیے گئے فیصلے کی تفصیلات ایک اعلامیے میں جاری کیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ فضل میران چوہان نے انڈیپنڈنٹ ایڈجیوڈکیٹر کی حیثیت سے سلیم ملک کی کلیئرنس سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے اپیل پر فیصلہ سنا دیا۔ 11 صفحات پر مشتمل فیصلے میں جسٹس چوہان نے لکھا ہے کہ سلیم ملک پی سی بی سے میچ فکسنگ یا سٹہ بازی کے معاملے پرکلیئرنس سرٹیفکیٹ مانگ رہے ہیں، ان کی یہ درخواست غیرفطری ہے کیونکہ درخواست گزار ایک طرف پی سی بی کی کرکٹ اکیڈمی میں ملازمت کی درخواست کررہے ہیں اور دوسری جانب پی سی بی سے این او سی بھی مانگ رہے ہیں لہٰذا یہ استدعا قبول نہیں کی جاسکتی۔ یفیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کو اپنا رویہ اچھا کرنا ہوگا، درخواست گزارپی سی بی میں نوکری کے لیے این او سی نہیں مانگ سکتے لہٰذا یہ اپیل نمٹائی جاتی ہے جبکہ پی سی بی، آئی سی سی ٹرانسکرپٹ کی اوریجنل ٹپس کی تصدیق کروائے بغیر اسے سلیم ملک کے خلاف استعمال نہیں کرسکتا اور ان کی بیٹنگ کوچ کے لیے دی گئی درخواست پر پی سی بی اپنا فیصلہ کرے۔ پی سی بی کےقانونی مشیر تفضل رضوی کہتے ہیں کہ انڈیپنڈنٹ ایڈجیوڈکیٹر جسٹس (ر) فضل میران چوہان نے واضح کیا ہےکہ سلیم ملک کی جانب سے این اوسی کے اجراء کی استدعا منظور نہیں کی جاسکتی ہے۔ اس پر سابق کپتان سلیم ملک کا کہنا ہے کہ ٹرانسکرپٹ کے حوالے سے ان کے مؤقف کو تسلیم کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ دنوں سلیم ملک نے فکسنگ کے حوالے سے سارے راز بتانے کی حامی بھرتے ہوئے 19 سال بعد قوم سے معافی مانگی تھی۔