مطیع اللہ اغوا کیس: اغواکاروں کی شناخت ممکن نہیں: تفتیشی رپورٹ

سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا سے متعلق کیس میں آئی جی اسلام آباد نے جے آئی ٹی کی تفتیشی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی۔ آئی جی اسلام آباد محمد عامر ذوالفقار خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی جے آئی ٹی کی تفتیشی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والے اغوا کاروں کی شناخت ممکن نہیں ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اغوا کے واقعے کی ویڈیو فوٹیج غیر معیاری کیمرے سے بنی ہے اور نادرا نے بھی ویڈیو میں نظر آنے والوں کی شناخت سے معذوری ظاہر کی ہے۔ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اغوا کاروں کی گاڑیوں کے نمبر بھی معلوم نہیں ہو سکے ہیں، تاہم گاڑیوں کی نشاندہی کی کوشش جاری ہے۔ آئی جی اسلام آباد کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واقعے کی جگہ سیف سٹی کا کوئی کیمرہ نصب نہیں تھا، نہ ہی واقعے کا کوئی چشم دید گواہ موجود ہے اور نہ کسی رہائشی نے بیان ریکارڈ کر ایا ہے۔ خیال رہے کہ سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو 21 جولائی کو اسلام آباد کے علاقے جی سکس سے اغوا کیا گیا تھا اور پھر انہیں 12 گھنٹے بعد اسلام آباد سے 70 کلومیٹر دور فتح جنگ کے علاقے میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد سے رپورٹ طلب کی تھی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ بدھ کو مطیع اللہ جان ازخود نوٹس پر سماعت کرے گا۔