لنکا لیگ ’پلیئرفکسنگ‘ کے الزامات سے داغدار

کولمبو: (کوہ نور نیوز،ویب ڈیسک) پلیئرفکسنگ‘ کے الزامات لنکا پریمیئر لیگ کو داغدار کرنے لگے، منتخب نہ ہونے والے کھلاڑیوں کے ’حامیوں‘ نے آن لائن ڈرافٹ پر انگلیاں اٹھانا شروع کردیں، ادھر منتظمین کو بدستور 3 فرنچائزز اور ٹی وی حقوق کی فروخت کا چیلنج درپیش ہے۔ تفصیلات کے مطابق لنکا پریمیئر لیگ کے پلیئرز ڈرافٹ میں 5ٹیموں کولمبو کنگز، دمبولا ہاکس، گال گلیڈی ایٹرز، جافنا اسٹالینز اور کینڈی ٹسکرز کی جانب سے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا، جو پلیئرز نومبر میں 3 ہفتوں کے اس شو کیلیے منتحب نہیں ہوسکے ان کے حامیوں نے ڈرافٹ میں ’پلیئر فکسنگ‘ کا الزام عائد کرنا شروع کردیا، ان کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو ٹیموں کے غیرملکی مالکان کی جانب سے صرف اعدادوشمار کی بنیاد پر منتخب کیا گیا۔ اس وجہ سے ون ڈے کپتان ڈیموتھ کرونا رتنے، دلشان موناویرا، سندن ویراکوڈے، چمیکارا کرونارتنے، پاتھم نسانکا اور لسیتھ کروسیپولے جیسے ٹی 20 کرکٹرز کو نظر انداز کردیا گیا۔ اس حوالے سے بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ فرنچائزز اچھی طرح جانتی تھیں کہ انھیں کس کی خدمات حاصل کرنا ہے،ان کا اپنا ہوم ورک مکمل تھا۔ ایس ایل سی کے چیف ایگزیکٹیو ایشلے ڈی سلوا نے کہاکہ بڈنگ کا عمل صاف شفاف تھا۔ بورڈ میں سے کسی نے بھی مداخلت نہیں کی، بدقسمتی سے کچھ پلیئرز منتخب ہونے سے رہ گئے۔ دوسری جانب ایونٹ میں 25 دن رہ جانے کے باوجود ابھی تک منتظمین کو کم سے کم 3 فرنچائزز کے مالکان کو فائنل کرنے اور ٹی وی حقوق فروخت کرنے کا چیلنج درپیش ہے، ایک رپورٹ کے مطابق ڈرافٹ میں صرف گال گلیڈی ایٹرز کے مینٹور وسیم اکرم نے حصہ لیا،اس ٹیم کے مالکان وہی ہیں جن کی پاکستان سپر لیگ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹر فرنچائز ہے۔ ڈرافٹ کے 2 روز بعد ایس ایل سی کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ کینڈی ٹسکرز بالی ووڈ اداکار سلمان خان کے چھوٹے بھائی سہیل خان نے خریدی ہے، اسی طرح جافنا اسٹالینز کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اس کے مالک انگلینڈ میں مقیم سری لنکن نڑاد کاروباری شخصیات ہیں۔ کولمبوکنگز اور دمبولا ہاکس کے مالکان کے بارے میں فی الحال کچھ علم نہیں ہوسکا۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ فی الحال صرف گال گلیڈی ایٹرز اور کینڈی ٹسکرز کے مالکان کی آئی سی سی کی جانب سے اسکروٹنی ہوئی ہے۔