ام رباب چانڈیو کے اہلخانہ کا قتل؛ اے آئی جی نےکیس کی تحقیقات سے معذرت کرلی

ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اےآئی جی) پولیس سکھر نے ام رباب چانڈیو کے والد سمیت خاندان کے 3 افراد کے قتل کے کیس کی سربراہی کرنے سے معذرت کرلی۔ ایڈیشنل آئی جی سکھر نے آئی جی سندھ مشتاق مہر کو خط لکھ کر آگاہ کردیا ہے۔ خط کے متن کے مطابق ایڈیشنل آئی جی نے مؤقف اختیارکیاکہ میہڑ دادو کا علاقہ ہے اور یہ حیدرآباد ریجن میں ہے اور وہ خود اس وقت ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہیں اس لیے ایڈیشنل آئی جی حیدرآباد ریجن کی سربراہی میں ٹیم قائم کی جائے۔ آئی جی سندھ نے قتل کیس میں مفرور دو ملزمان مرتضی چانڈیو اور ذوالفقار چانڈیو کی گرفتاری کے لیے اے آئی جی سکھر کی سربراہی میں ٹیم بنائی تھی۔ خیال رہے کہ دادو کی تحصیل میہڑ میں مبینہ طور پر17جنوری 2018 کو چانڈیو برادری کے افراد نے فائرنگ کرکے ام رباب کے والد، دادا اور چچا کو قتل کردیا تھا۔ سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار ایک صبح جب سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں مقدمات کی سماعت کے لیے پہنچے تھے تو ام رباب نے ان کی گاڑی کا راستہ روکنے کی کوشش کی تھی جب کہ اس کے بعد ان کی سندھ ہائی کورٹ کے باہر ننگے پیر سماعت پر آنے کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ام رباب کی فریاد پر 2 بار از خود نوٹس لیا تھا۔ پولیس کے بڑے بڑے افسر ملزمان کے سامنے بے بس ہیں: چیف جسٹس رواں ماہ 12اکتوبر کو سپریم کورٹ اسلام آباد میں ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے تھےکہ پولیس کے بڑے بڑے افسر ملزمان کے سامنے بے بس ہیں۔ چیف جسٹس نے مفرور ملزمان کی عدم گرفتاری پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھےکہ کیا ملزمان پولیس اور ریاست سے زیادہ طاقتور ہیں؟ کیا حیدرآباد پولیس کی ساری نفری بیکار ہے؟ جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھاکہ پولیس افسران دفاتر سے باہر ہی نہیں نکلتے اور پولیس کے بڑے بڑے افسر ملزمان کے سامنے بے بس ہیں۔