گرمی میں رنگ بدل کر سولر سیل بن جانے والی ’’ذہین کھڑکی‘‘

کولوراڈو: (کوہ نور نیوز،ویب ڈیسک) امریکی محکمہ توانائی کی ماتحت ’’نیشنل رینیوایبل انرجی لیبارٹری‘‘ (این آر ای ایل) میں ماہرین نے ایک ایسی ’’ذہین کھڑکی‘‘ ایجاد کرلی ہے جو زیادہ گرمی میں اپنا رنگ بہت تیزی سے بدل کر خود کو شمسی (سولر) سیل میں تبدیل کرلیتی ہے اور بجلی بنانے لگتی ہے۔ سولر پینلز سے بجلی بنانے میں یہ نسبتاً نئی ٹیکنالوجی ’’تھرموکرومک فوٹو وولٹائک‘‘ کہلاتی ہے جو کچھ سال پہلے ہی متعارف ہوئی ہے۔ تازہ پیش رفت میں اسی ٹیکنالوجی کو خاصا بہتر بنایا گیا ہے۔ بتاتے چلیں کہ نہ سولر سیل کوئی نئی ایجاد ہے اور نہ ہی تیز روشنی یا گرمی میں رنگ بدلنے والے شیشے کوئی نئی چیز ہیں۔ البتہ ان دونوں پرانی ٹیکنالوجیز کو یکجا کرکے ایسی کھڑکیوں کی تیاری ایک نئی پیش رفت ضرور ہے، جن کی رنگت درجہ حرارت بڑھتے ہی نہ صرف تبدیل ہوجاتی ہے بلکہ وہ دھوپ سے بجلی بنانے کے قابل بھی ہوجاتی ہیں۔ ’’اسمارٹ ونڈوز‘‘ یعنی ذہین کھڑکیاں بنانے کےلیے پیرووسکائٹ (perovskite) کہلانے والے مادّے کی ایک باریک فلم، شیشے کی دو پرتوں کے بیچ میں دبا دی جاتی ہے جبکہ اسی کے ساتھ بخارات بھی داخل کردیئے جاتے ہیں۔ (سولر سیلز کی تیاری میں پیرووسکائٹ ایک نیا نام ہے جو تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔) کم درجہ حرارت پر پیرووسکائٹ شفاف رہتا ہے جس میں سے روشنی بہ آسانی گزر سکتی ہے۔ لیکن جیسے ہی درجہ حرارت ایک خاص حد سے بڑھتا ہے تو بخارات یہ توانائی جذب کرتے ہیں اور پیرووسکائٹ پرت میں موجود قلموں کی ترتیب تبدیل کردیتے ہیں۔ نتیجتاً پیرووسکائٹ کی پرت گہرے رنگ کی ہوجاتی ہے اور اس میں سے روشنی نہیں گزر سکتی؛ جبکہ ساتھ ہی ساتھ وہ سولر پینل میں بھی تبدیل ہوجاتی ہے، یعنی اضافی گرمی اور روشنی سے بجلی بنانے لگتی ہے۔ ذہین کھڑکی کا پہلا اور پرانا پروٹوٹائپ 65.5 سے 79.4 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے درمیان اپنی شفاف حالت بدل کر سرخی مائل بھورا ہوجاتا تھا، جس میں اسے تین منٹ لگتے تھے۔ نیا اور ترمیم شدہ پروٹوٹائپ 35 سے 46 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان اپنی رنگت تبدیل کرتا ہے اور پیلا، نارنجی، سرخ اور بھورا (براؤن) تک ہوسکتا ہے جس کا انحصار درجہ حرارت پر ہوتا ہے؛ جبکہ رنگت کی تبدیلی میں اسے صرف سات سیکنڈ لگتے ہیں۔ اسے تیار کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اب یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر پیداوار کےلیے تیار ہے اور ’’ذہین کھڑکیوں‘‘ کی پہلی کھیپ ایک سال میں پیش کی جاسکے گی۔ اس تحقیق کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’نیچر کمیونی کیشنز‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔