انوکھا طریقہ: چار افراد’سفارتکار‘ کا روپ دھار کر پرائیویٹ طیارے پر جرمنی پہنچ گئے

برلن: (کوہ نور نیوز،ویب ڈیسک) جرمنی سے ایک عجیب و غریب خبر سامنے آئی ہے جہاں پر چار افراد پر مشتمل ايک عراقی خاندان پرائيویٹ طيارے پر جرمن شہر ميونخ کے ہوائی اڈے پر اترا۔ پہلے خود کو سفارتکار بتايا اور بعد ميں تسليم کر ليا کہ وہ انسانوں کے ايک سمگلر کو 60 ہزار يورو دے کر استنبول سے ميونخ پہنچے ہيں تفصیلات کے مطابق پناہ کی تلاش ميں پہاڑی راستوں، جنگلات اور سمندروں کے خطرناک سفر کی کہانياں تو پہت سامنے آتی ہيں مگر ايک خصوصی نجی پرواز پر ’سفارت کاروں‘ کا روپ دھارے پناہ کے متلاشیوں کی يہ کہانی ذرا مختلف ہے۔ وفاقی جرمن پوليس نے مہاجرين کی سمگلنگ کے ايک عجيب و غريب واقعے پر سے پردہ اٹھايا ہے۔ چار افراد پر مشتمل ايک عراقی خاندان ايک پرائيویٹ طيارے پر جرمن شہر ميونخ کے ہوائی اڈے پر نو اکتوبر کو اترا۔ پہلے انہوں نے خود کو سفارت کار بتايا اور بعد ميں تسليم کر ليا کہ وہ انسانوں کے ايک سمگلر کو 60 ہزار يورو دے کر استنبول سے ميونخ پہنچے ہيں۔ يہ خاندان جرمنی ميں سياسی پناہ کا متلاشی ہے۔ پوليس نے بتايا کہ 49 سالہ عراقی مہاجر، اپنی 44 سالہ بيوی اور 12 اور سات سال کی عمروں کے دو بچوں کے ساتھ ميونخ کے ہوائی اڈے پر اکتوبر کو پہنچا۔ بارڈر کنٹرول کے وقت اميگريشن آفيسرز کے ساتھ گفتگو کے دوران اس عراقی مہاجر نے انہيں اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ اور اس کی بيوی سفارتکار ہيں اور کريبيئن کے جزيرے ڈومينيکا کی طرف سفر کر رہے ہيں۔ مگر ان کے دستاويزات اور ان کی کہانی ميں تضاد ديکھ کر حکام چوکنا ہو گئے۔ اس واقعے پر رپورٹس شائع کرنے والے دو نشرياتی اداروں نے يہ بھی لکھا ہے کہ چاروں ميں سے کوئی بھی نہ تو انگريزی زبان جانتا تھا اور نہ ہی فرانسيسی، جس سے بھی حکام کو شبہ ہوا کہ دال ميں کچھ کالا ہے۔ بعد ازاں انہوں نے سب کچھ تسليم کر ليا۔ يہ خاندان اپنا سب کچھ بيچ کر فرار ہوا۔ ان کے بيان ميں انہوں نے بتايا کہ وہ 44 سالہ خاتون کے والد کی وجہ سے فرار ہوئے، جو اپنی بيٹی اور اس کی سات سالہ بيٹی دونوں کے ختنے کرانا چاہتے تھے۔ يہی وجہ ہے کہ انہوں نے شمالی عراق ميں اپنا سب کچھ بيچا اور ترکی پہنچ گئے۔ پھر وہاں سے انہوں نے ايک ہيومن ٹريفکر کو ميونخ تک کی خصوصی پرواز کے ليے 60 ہزار يورو کے برابر رقوم ديں۔ يہ رقم وصول کرنے والا انسانی اسمگلر شامی شہری ہے۔ پوچھ گچھ کے بعد اس خاندان کو باويريا ميں قائم ايک سينٹر منتقل کر ديا گيا ہے، جہاں ان کی پناہ کی درخواست پر کارروائی کی جائے گی۔ درخواست پر حتمی فيصلے تک اب يہ خاندان وہيں مقيم رہے گا۔