دنیا کا سب سے چھوٹا ریفریجریٹر، گنجائش ایک مربع مائیکرومیٹر

لاس اینجلس: (کوہ نور نیوز) جامعہ کیلیفورنیا لاس اینجلس (یوسی ایل اے) کے انجینیئروں نے دنیا کا سب سے چھوٹا ریفریجریٹر تیار کیا ہے۔ تاہم اس میں کھانے اور پینے کا سامان رکھنا محال ہے کیونکہ اس کی گنجائش ایک مربع مائیکرومیٹر ہے۔ اس کی بدولت خردبینی سطح پر چھوٹی اشیا کو فوری طور پر ٹھنڈا کیا جاسکتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ دو سیمی کنڈکٹروں کے درجہ حرارت کے فرق سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جسے تھرموالیکٹرک اثر کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ عمل الٹا بھی ہوسکتا ہے یعنی بجلی دینے پر ایک سرا گرم اور دوسرا کنارہ سرد رکھا جاسکتا ہے۔ اب اس آلے کو ہم تھرمو الیکٹرک کولر قرار دیں گے۔ یو سی ایل اے کی ٹیم نے بسمتھ ٹیلورائڈ اور اینٹی منی، بسمتھ ٹٰیلورائڈ سے بنے دو عدد سیمی کنڈکٹر لئے اور ان پر عام ٹیپ چپکائی۔ جب ٹیپ دوبارہ اکھاڑی گئی تو صرف ہر سیمی کنڈکٹر کا معمولی ٹکڑا ہی چپک کر باہر نکلا۔ اس ٹکڑے سے 100 نینومیٹر موٹائی کا ایک تھرموالیکٹرک آلہ بن گیا۔ واضح رہے کہ ایک نینومیٹر ایک میٹر کے اربویں حصے کے برابر ہوتا ہے۔ عالمی ریکارڈ تحقیق کے مرکزی سائنسداں ژن یائی لِنگ نے کہا کہ ہم نے سب سے چھوٹا تھرموالیکٹرک کولر بنا کرایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے جو ایک بلحاظ دس ہزار کے تناسب سے ٹھنڈک پیدا کرتا ہے۔ تاہم تھرمو الیکٹرک آلات قابلِ بھروسہ ہونے چاہیے۔ اپنی جسامت اور جامد حصوں کی بدولت یہ اتنی بجلی نہیں بناپاتے کہ ان سے بڑے پیمانے پر اشیا کو سرد رکھا جاسکے، جبکہ درجہ حرارت میں تبدیلی بھی نینوپیمانے پر ہی ہورہی ہے۔ تاہم اس تجربے سے طبعیات کو اتنے چھوٹے پیمانے پر جاننے میں مدد ضرور مل سکتی ہے۔ اپنی جسامت کی بنا پر لاکھوں گنا تیزی سے ٹھنڈک پیدا کرتا ہے۔ ایٹمی سطح پر تھرموالیکٹرک اثرات کو سمجھ کر ہم بڑے پیمانے پر بھی ایسے تیزرفتار ٹھنڈک پیدا کرنے والے آلات تیار کرسکتے ہیں۔