نسل پرستی میچ فکسنگ جیسے جرائم سے ہرگز کم نہیں، ویسٹ انڈیز کپتان جیسن ہولڈر

کنگسٹن: (کوہ نور نیوز،ویب ڈیسک) ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے کپتان جیسن ہولڈر نے کہا ہے کہ نسل پرستی ممنوعہ ادویات لینے اور میچ فکسنگ جیسے جرائم سے ہرگز کم نہیں ہے۔ جیسن ہولڈر نے کہا ہے کہ کسی بھی سیریز سے قبل کھلاڑیوں کو اس معاملے کے بارے میں بریفنگ دینا چاہیے۔ اس بارے میں زیادہ شعور و آگاہی پھیلانے کی ضرروت ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں ابھی تک اس مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن ان کے کئی سیاہ فام ساتھیوں کو نسل پرستی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کرکٹ میں نسل پرستی کو بھی ویسے ہی سنجیدگی سے لینا چاہیے جیسا کہ میچ فکسنگ اور ڈوپنگ کو لیا جاتا ہے۔ نسل پرستانہ عمل یا جملے کسنے پر بھی سخت سزا دی جانا چاہیے۔ یہ معاملہ ممنوعہ ادویات لینے اور میچ فکس کرنے جیسے جرائم سے کم ہرگز نہیں ہے۔ جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کے مطابق بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے انسداد نسل پرستی کوڈ کے تحت نسل پرستی کے باعث کسی کھلاڑی پر عمر بھر کی پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔ تاہم ابھی تک نسل پرستی کا مظاہرہ کرنے پر کسی بھی کھلاڑی کو یہ سزا نہیں دی گئی ہے۔