دنیا کی پہلی نجی سپیس فلائٹ خلا بازوں کو لے کر روانگی کے لیے تیار

فلوریڈا: (کوہ نور نیوز) دنیا کی پہلی نجی سپیس فلائٹ خلا بازوں کو لے کر ہفتے کو ناسا سے روانہ ہوگی۔ گزشتہ نو سال میں یہ پہلا خلائی مشن ہے جو امریکا کی سرزمین سے خلا بازوں کو لے کر زمین کے مدار میں جائے گا۔ وفاقی وزیر فواد چودھری کہتے ہیں کہ 2023ء میں پاکستان کا پہلا خلائی مشن بھیجا جائے گا۔ تفصیل کے مطابق سپیس ایکس کے مالک ایلن مسک کے خواب کی تعبیر جلد ممکن ہونے جا رہی ہے۔ انسان کے چاند پر آباد ہونے کی جانب پہلا قدم اب کچھ دیر کی ہی بات ہے۔ دنیا کی پہلی نجی سپیس فلائٹ خلا بازوں کو لے کر روانگی کے لیے تیار ہے۔ اس سلسلے میں امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ امریکی کمپنی سپیس ایکس کی تیار کی گئی خلائی شٹل ہفتے کے روز امریکی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بج کر 20 منٹ پر خلا بازوں کو لے کر بین الاقوامی خلائی سٹیشن روانہ ہوگی۔ گزشتہ نو سال میں یہ پہلا خلائی مشن ہے جو امریکا کی سرزمین سے خلا بازوں کو لے کر زمین کے مدار میں جائے گا۔ مشن فلوریڈا کے کینیڈی سپیس سٹیشن سے فالکن نائن راکٹ کے ذریعے دو سابق شٹل پائلٹ رابٹ بینکن اور ڈگلس رلی کو لے کر جائے گا۔ ناسا حکام کے مطابق خلا بازوں کی واپسی کا فیصلہ ان کے خلائی سٹیشن پر پہنچنے کے بعد کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ اس سے پہلے سپیس ایکس کی خلائی پرواز موسم کی خرابی کے باعث موخر کر دی گئی تھی۔ ادھر وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے پہلی نجی سپیس فلائٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے ساٹھ سال پہلے سپارکو کی بنیاد رکھی لیکن آج تک خلائی مشن نہیں بھیجا جا سکا۔ دنیا کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو بھی اب ٹیکنالوجی کے میدان میں جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔ واضح رہے ناسا نے 2011ء میں اپنا سپیس شیٹل پروگرام ختم کرتے ہوئے بین الاقوامی خلائی سٹیشن تک سفر اور واپسی کے انتظامات نجی شعبے کے سپرد کر دئیے تھے۔