پاکستان میں کورونا وائرس کا زور برقرار، مریضوں کی تعداد 2071 ہوگئی

لاہور: (کوہ نورنیوز) ملک بھر میں اس وبا سے متاثر ہونے والے 26 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ مریضوں میں 10 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جبکہ 82 صحتیاب ہوکر گھروں کو جا چکے ہیں۔ اس وقت صوبہ پنجاب کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں 740 کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ صوبہ سندھ 676، خیبر پختونخوا 253، بلوچستان 158، گلگت بلتستان 184، اسلام آباد 54 جبکہ آزاد کشمیر میں 6 کورونا وائرس کے کنفرم مریض ہیں۔ صوبہ پنجاب میں اس وقت کورونا وائرس کے 740 کنفرم مریض ہیں۔ ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق ڈی جی خان سے 207، ملتان 91 زائرین، رائے ونڈ کورنٹین 41 اور فیصل آباد کورنٹین میں 5 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ لاہور میں 159، قصور 1، ننکانہ صاحب 13، راولپنڈی 46، جہلم 28، اٹک 1، گوجرانوالہ 12، گجرات 86، منڈی بہاء الدین 4، حافظ آباد 5، نارروال، 2 سرگودھا 7، میانوالی 3، خوشاب 1، ملتان 2، وہاڑی 2، فیصل آباد 9، رحیم یار خان 3، بہاولنگر 3، بہاولپور 1، لودھراں 2، لیہ 1 اور ڈی جی خان 5 مریض زیر علاج ہیں۔ کورونا وائرس سے صوبہ پنجاب میں اب تک 9 اموات ہو چکی ہیں جبکہ 5 مریض صحتیاب ہوئے۔ پنجاب میں آج صبح تک 16061 مشتبہ افراد کے لیبارٹری ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ یہ ٹیسٹ این آئی ایچ اسلام آباد، پی آر ایل پنجاب، شوکت خانم، نشتر ہسپتال ملتان اور چغتائی لیب میں کیے جا رہے ہیں۔ عوام سے گزارش ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار کر کے خود کو محفوظ بنائیں۔ گزشتہ 14 روز میں متاثرہ ممالک سے آنے یا کنفرم مریضوں سے ملنے والے افراد گھر میں آئسولیشن اختیار کریں۔ متاثرہ ممالک سے آئے افراد میں آئسولیشن کے دوران علامات ظاہر ہوں تو 1033 پر رابطہ کریں۔ حکومت سندھ نے صوبے میں جمعہ کے روز لاک ڈاؤن کو مزید سخت کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق جمعہ کو دن 12سے سہ پہر 3 بجے تک مکمل لاک ڈاؤن ہوگا۔ نماز جمعہ کے اجتماعات کو محدود کرنے کے فیصلے پر علما متفق ہیں۔ یاد رہے کہ 27 مارچ کو سندھ حکومت نے صوبے بھر جاری لاک ڈاؤن کے پلان میں تبدیلی کا فیصلہ کرتے ہوئے شام 5 بجے سے دکانیں بند کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس سے قبل 22 مارچ کو لاک ڈاؤن کے اعلان کے وقت اشیائے خورونوش بیچنے والے دکانداروں کو رات 8 بجے دکانیں کھولنے کی اجازت دی گئی تھی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے بھر میں مکمل لاک ڈاؤن کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پابندیاں سخت کیے بغیر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو نہیں روکا جا سکتا۔ انہوں نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر وجہ لوگوں کو سڑکوں پر آنے نہیں دیا جائے۔ مقامی کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد تشویش ناک ہے۔ کورونا وائرس کی صورتحال کی بات کی جائے تو سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صوبہ سندھ میں اس وقت وبا میں مبتلا مریضوں کی تعداد 676 ہو گئی ہے۔ خیبر پختونخوا کی مساجد میں نمازیوں کی تعداد محدود کر دی گئی ہے۔ کمیٹی ارکان سمیت پانچ افراد باجماعت نماز ادا کر سکیں گے۔ یہ اقدام کرونا وائرس کے خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔ محکمہ ریلیف وآبادکاری کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق علمائے کرام سے مشاورت کے بعد مساجد میں نمازیوں کی تعداد محدود کر دی گئی ہے۔ اعلامیہ کے مطابق اب صرف انتظامی کمیٹی پر مشتمل پانچ افراد باجماعت نماز ادا کر سکیں گے تاہم عام لوگ مساجد کے بجائے اپنے گھروں نماز ادا کریں گے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم کے زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں مساجد میں باجماعت نماز اور جمعہ محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے اس سلسلے میں کہا تھا کہ مسلم اُمہ نے احتیاطی تدابیر کے طور پر اقدامات اٹھائے۔ شیخ الازہر اور حرمین شریفین کی طرف سے بھی فتوٰی آیا ہے۔ ترکی، مصر اور مراکش سمیت بہت سارے ممالک نے مساجد کو بڑے اجتماعات کیلئے بند کر دیا۔ اس کے علاوہ تین دن سے مکہ مکرمہ اور مسجد اقصیٰ کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ پیر نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مساجد کو بند نہیں ہونے دیں گے۔ مساجد سے اذان کی صدائیں آئیں گی تاہم مساجد میں پانچ وقت کی نماز اور جمعہ کی نماز کو محدود رکھا جائے گا۔ مسجد کا عملہ اور محدود تعداد میں تندرست لوگ نماز ادا کریں گے جبکہ باقی گھروں میں پڑھیں گے۔ پی آئی اے کا خصوصی طیارہ حکومت پاکستان کی ہدایت پر امدادی سامان لانے کے لئے بیجنگ روانہ ہو گیا ہے۔ پی آئی اے کی پرواز اسلام آباد سے بیجنگ کے لئے روانہ ہوئی۔ پرواز میں ہوا بازوں کے ہمراہ 7 رکنی لوڈنگ عملہ بھی ہے۔ پرواز کل صبح 52 ٹن سے زیادہ سامان لے کر پہنچے گی۔ سامان میں حفاظت کٹس، آلات، ماسک، ٹیسٹنگ کٹس اور دیگر آلات شامل ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی کا یہ اجلاس 6 اپریل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر 25 رکنی پارلیمانی کمیٹی کی صدارت کریں گے۔ اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ اور مشیر تجارت وصنعت عبدالرزاق داؤد شریک ہونگے۔ چیئرمین این ڈی ایم اے جنرل محمد افضل کمیٹی کو وائرس کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دیں گے۔ اجلاس میں کمیٹی کے ممبران ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بھی شریک ہوں گے۔ وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایات کے بعد وبا کی صورتحال میں لوگوں کو مدد کیلئے ‘’کورونا ریلیف ٹائیگر فورس’’ کی رجسٹریشن کا باقاعدہ آغاز آج کر دیا گیا ہے۔ کورونا ریلیف ٹائیگر فورس پر رجسٹریشن کا 10 اپریل تک جاری رہے گا۔ اس فورس میں 18 سال سے زائد عمر افراد شامل ہو سکیں گے۔ اس فورس کے قیام کا مقصد ہنگامی حالات میں ضرورت مندوں کو خوراک، کھانا اور راشن سپلائی کرنا ہے جبکہ ذخیرہ اندوزوں کی نشاندہی کرنا بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہوگا۔ کورونا ریلیف ٹائیگر فورس میں شامل نوجوان قرنطینہ میں موجود افراد کی پہرے داری کا فرض بھی سنبھالیں گے۔ اس فورس میں صرف پی ٹی آئی سے وابستہ نوجوانوں کے شامل ہونے کی پابندی نہیں رکھی گئی ہے۔ عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار تمام نوجوان اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ سٹیزن پورٹل پر اپ لوڈ فارم میں نوجوان اپنا نام، پتا، عمر، موبائل نمبر، یونین کونسل اور ضلع کی تفصیلات درج کرکے کورونا ریلیف ٹائیگر فورس میں شامل ہونگے۔ یہ فورس ڈپٹی کمشنرز کے ماتحت کام کرے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ نوجوان کورونا جیسی آفت سے نمٹنے کی کوششوں میں ہمارا ہاتھ بٹائیں اور ہماری کرونا ٹائیگر فورس جسے اس وبا سے جنم لینے والے مصائب کیخلاف جہاد کیلئے منظم کیا جائے گا، کا حصہ بنتے ہوئے بیماری کیخلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کریں۔