وفاقی حکومت کا مساجد میں‌ باجماعت نماز اور جمعہ محدود کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: (کوہ نورنیوز) وزیراعظم کے زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد حکومتی نمائندوں کے ہمراہ پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ مسلم اُمہ نے احتیاطی تدابیر کے طور پر اقدامات اٹھائے۔ شیخ الازہر اور حرمین شریفین کی طرف سے بھی فتوٰی آیا ہے۔ ترکی، مصر اور مراکش سمیت بہت سارے ممالک نے مساجد کو بڑے اجتماعات کیلئے بند کر دیا ہے۔ تین دن سے مکہ مکرمہ اور مسجد اقصیٰ کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کربلا میں بھی مزار بند ہو چکے ہیں۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے بتایا کہ آج علمائے کرام سے ساڑھے تین گھنٹے تک طویل نشست ہوئی۔ علمائے کرام نے اتفاق کیا ہے کہ حکومت جو بھی پالیسی بنائے گی، اس پر عمل کرینگے گی۔ پیر نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ مساجد کو بند نہیں ہونے دیں گے۔ مساجد سے اذان کی صدائیں آئیں گی تاہم مساجد میں پانچ وقت کی نماز اور جمعہ کی نماز کو محدود رکھا جائے گا۔ مسجد کا عملہ اور محدود تعداد میں تندرست لوگ نماز ادا کریں گے جبکہ باقی گھروں میں پڑھیں گے۔ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے نیشنل کوارڈی نیشن کمیٹی بنائی گئی تھی جس کی آج پانچویں میٹنگ تھی۔ ہم وائرس سے نمٹنے کے لیے قومی حکمت عملی کے تحت چل رہے ہیں۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ 182 سے زائد ممالک میں کورونا وائرس پھیل چکا ہے۔ اس عالمی بحران کے پاکستان پر بھی اثرات آ رہے ہیں۔ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے شہری بھی اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے تاریخ کے سب سے بڑے معاشی پیکج کا اعلان کیا، اب ہم نے معاشی پیکج پر عملدرآمد کروانا ہے۔ کام صوبوں کے ساتھ مل کر ہو رہا ہے۔ نیشنل کمانڈ سینٹر میں صوبوں کے نمائندے بھی بیٹھیں گے۔ بہت سارے اوورسیزپاکستانی مالی امداد کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم کل یا پرسوں بڑے اعلانات کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کے تمام تعلیمی ادارے 31 مئی تک بند رہیں گے جبکہ ٹرانسپورٹ کے حوالے سے کل دوبارہ بیٹھک ہوگی۔ معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک ہزار 102 کورونو وائرس کے مریض ہیں۔ پچھلے چوبیس گھنٹے میں 102 مریضوں کا اضافہ ہوا ہے۔ مختلف ہسپتالوں میں 575 مریض داخل ہیں۔ ابھی تک 21 مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں۔ پانچ مریضوں کی حالت تشویشناک جبکہ 8 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ایران سے آنے والے زائرین کو مختلف صوبوں میں قرنطینہ کیا گیا ہے۔ زائرین میں سے ڈھائی ہزار کے پوزیٹو ٹیسٹ آئے۔ انہوں نے بتایا کہ انفیکشن بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر فیصل کو کورونا وائرس کا فوکل پرسن بنایا گیا ہے۔ پانچ اپریل تک ڈاکٹرز، نرسز اور طبی عملے کی حفاظت کے لیے درکار سامان وافر مقدارمیں دستیاب ہوگا۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے عوام سے اپیل کی کہ عوام احتیاطی تدابیر پر عمل کریں، شہری غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔