وزیراعلیٰ پنجاب کا ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا حکم

لاہور: (کوہ نورنیوز) تفصیل کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کے لئے حفاظتی لباس اور ضروری طبی آلات کی خریداری کیلئے کئے جانے والے اقدامات کا جائزہ اور صوبے میں آٹے سمیت اشیائے ضروریہ کے سٹاک اور سپلائی پر غور کیا گیا۔ صوبائی وزرا راجہ بشارت، ڈاکٹر یاسمین راشد، ہاشم جواں بخت، چیف سیکرٹری، سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ومیڈیکل ایجوکیشن اور سیکرٹری پرائمری وسیکنڈری ہیلتھ کیئر نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب میں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے اشیائے ضروریہ کی سپلائی بہتر بنانے کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آٹے سمیت کسی چیز کی کوئی قلت نہیں، صوبہ بھر میں آٹے اور دیگر اشیائے ضروریہ کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے فوڈ سپلائی چین کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام کو کسی بھی صورت ذخیرہ اندوزوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے ہر ڈویژن میں نئی ٹیسٹنگ لیبز جلد فنکشنل ہو جائیں گی۔ ان ٹیسٹنگ لیبز کے فنکشنل ہونے سے ہر ڈویژن پر کورونا ٹیسٹ کی سہولت میسر ہو گی۔ نئی لیبز کے قیام کے لئے 62 کروڑ روپے محکمہ صحت کو جاری کر دیئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری ہسپتالوں میں 3000 بستر کورونا وائرس کے مریضوں کیلئے مختص کر دیئے ہیں۔ صوبے کے تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز کی میپنگ کرکے 50 ہزار مزید بستروں کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کے لئے حفاظتی لباس اور ضروری طبی آلات کی خریداری کیلئے محکمہ صحت کو 12 ارب روپے جاری کر دیئے ہیں۔ زکوۃ کی کٹوتی کا عمل ایک ماہ قبل شروع کرنے کے لئے وفاقی حکومت کو باقاعدہ درخواست بھجوا دی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کورونا وائرس مریضوں کے علاج معالجے کیلئے تمام ضروری اقدامات کئے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان کے قرنطینہ مرکز میں 550 زائرین کے کورونا ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔ منفی ٹیسٹ کے بعد زائرین کو ان کو گھروں میں روانہ کیا جا رہا ہے۔