لاک ڈاؤن کی پابندیاں نظرانداز، کورونا وائرس پھیلنے لگا، مریض 1100 سے تجاوز

لاہور: (کوہ نورنیوز) ملک بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق صوبہ سندھ 421، پنجاب 340، بلوچستان 131، گلگت بلتستان، 84، اسلام آباد 25 اور آزاد کشمیر میں ایک کورونا وائرس کا کنفرم کیس ہے۔ پنجاب اور گلگت بلتستان حکومت نے کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں اور طبی عملے کیلئے ایک ماہ کی اضافی تنخواہ کا اعلان کردیا۔ تفصیل کے مطابق کورونا وائرس کے موذی مرض سے متاثر افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے۔ چاروں صوبوں، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں مزید کئی افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ کورونا وائرس پر قابو پانے کیلئے ملک بھر میں لاک ڈاؤن بھی جاری ہے۔ شہزاد ٹاؤن کے علاقے میں کورونا کا ایک اور کیس سامنے آ گیا ہے۔ لاہور سے آئے تبلیغی جماعت کے رکن میں کورونا کی تشخیص ہوئی جس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے شہزاد ٹاؤون میں متاثرہ علاقے کو سیل کر دیا ہے۔ علاقے کے دیگر افراد کا ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔ سیکٹرجی 13 میں شہری کی موت کرونا وائرس سے نہیں ہوئی، ڈی سی اسلام آباد ڈی ایچ ایس ڈاکٹر عروج کے مطابق شہری کی ہلاکت منشیات کے استعمال سے ہوئی،حمزہ شفقات شہری کی ٹریول اورفیملی ہسٹری سے بھی کورونا کا مرض نہ ہونے کے شواہدملے،حمزہ شفقات منشیات فراہم کرنے والے شخص کی بھی شناخت کر لی گئی ہے ڈی سی اسلام آباد کے مطابق شہزاد ٹاؤن کے رہائشی فیصل محمود نامی شخص میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ متاثرہ شہری اپنی ساس کی نماز جنازہ میں متعدد افراد سے ملا تھا۔ کورونا کیس کی تصدیق کے بعد شہزاد ٹاؤن کو سیل کرکے مزید نمونے لیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ایک خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سیکٹر جی 13 میں شہری کی موت کورونا وائرس سے نہیں بلکہ منشیات کے استعمال سے ہوئی۔ شہری کی ٹریول اور فیملی ہسٹری سے بھی کورونا کا مرض نہ ہونے کے شواہد ملے۔ ادھر سیکٹر ایچ نائن میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریض سامنے آنے کی رپورٹس پر ضلعی انتظامیہ نے علاقے کو سیل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے رمشا کالونی اور ایچ نائن کا گھیراؤ کر لیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں بارہ کہو کے علاقے کا بھی مکمل لاک ڈاؤن ہے۔ ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس کے 340 کنفرم مریض ہیں۔ ڈی جی خان سے 176 زائرین، ملتان سے 12 زائرین، لاہور 83، گجرات 21، گوجرانوالہ 8، جہلم 19 اور راولپنڈی میں 4 مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ ملتان میں 3، فیصل آباد 3، منڈی بہاء الدین 1، ناروال 1، رحیم یار خان 1 اور سرگودھا میں 1 مریض میں کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ اٹک اور بہاولنگر میں بھی ایک ایک مریض میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ تمام کنفرم مریض آئسولیشن وارڈز میں داخل ہیں۔ جنھیں مکمل طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق 68 مریض ٹریول ہسٹری، 40 کنفرم مریضوں سے متاثر ہونے والے جبکہ 18 لوکل کنفرم کیس ہیں۔ 188 کنفرم مریض ایران سے آنے والے زائرین میں سے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب اور شوکت خانم کی لیبارٹری میں مجموعی طور پر 3031 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ حکومت پنجاب کے پاس اس وقت 3561 ٹیسٹ کٹس موجود ہیں۔ رواں ہفتے مزید 6 ہزار کٹس کی سپلائی بھی مل جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام سے گزارش ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں۔ گزشتہ 14 روز میں متاثرہ ممالک سے آئے افراد گھر میں آئسولیشن اختیار کریں۔ اگر ان میں آئسولیشن کے دوران علامات ظاہر ہوں تو 1033 پر رابطہ کریں۔ ریپڈ رسپانس ٹیمیں مشتبہ مریض کو ہسپتال منتقل کر کے ٹیسٹ کروائیں گی۔ بلوچستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد بڑھنے لگی ہے۔ صوبے میں کورونا کے مزید 12 نئے کیسز سامنے آنے سے کیسز کی تعداد 131 تک جا پہنچی ہے۔ کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر حکومت بلوچستان نے مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے اقدامات مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے شہر میں مکمل لاک ڈاؤن کے ساتھ ساتھ کوئٹہ کو ملک اور صوبے کے تمام اضلاع سے منقطع کیا جا رہا ہے۔ کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاؤن اور مری آباد کو بھی مکمل سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے ان علاقوں کو سیل کرنے کے بعد یہاں رہنے والے افراد کی سکریننگ کا عمل شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے تا کہ کوئی بھی مشتبہ کیس ہو تو وہ بھی سامنے لایا جا سکے۔ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے تمام موٹرویز مسافر گاڑیوں کیلئے بند ہیں۔ تیل کی ترسیل اور اشیائے خورونوش والی گاڑیوں کو کم عملے کے ساتھ داخلے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ پرائیویٹ گاڑی میں صرف دو افراد سفر کر سکیں گے۔ کرونا وائرس کی صورتحال پر سندھ اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ میں رابطہ کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے اقدامات پر صوبوں میں روابط بھی جاری ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو ٹیلی فون کیا او چین سے آنے والا امدادی سامان بھجوانے پر شکریہ ادا کیا ہے۔ پنجاب اور گلگت بلستان حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے طبی عملے کو ایک ماہ کی اضافی تنخواہ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا اجمل وزیر نے بتایا ہے کہ اب تک صوبے بھر میں مشتبہ افراد کی تعداد 694 ہے جبکہ 121 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مردان کے علاقے منگا میں 43 نمونوں میں 39 کے رزلٹ پازیٹیو آئے ہیں جبکہ ڈی آئی خان قرنطینہ سینٹر سے 2 مثبت کیس آئے ہیں۔ صوابی اور سوات میں ایک، ایک کیس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ اب تک 159 افراد کے تجزیے منفی آئے ہیں جبکہ 317 افراد کے نتائج ابھی آنے ہیں۔ دو افراد صحتیاب ہو کر گھروں کو بھیجے جا چکے ہیں۔ صوبے میں اب تک تین اموات ہو چکی ہیں۔ محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری اعدادوشمار میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں کورونا وائرس کے 8 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے کراچی میں 7 نئے کیسز مقامی سطح پر منتقلی کے رپورٹ ہوئے جبکہ ایک نیا کیس حیدرآباد سے آیا ہے، متاثرہ فرد کی برطانیہ کی سفری ہسٹری موجود ہے۔ نئے آنے والے کیسز کے بعد کراچی میں کورونا وائر سے متاثرہ افراد کی تعداد 153، دادو میں ایک اور حیدر آباد میں 2 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ محکمی صحت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس مرض میں مبتلا 14 صحتیاب ہوئے، ایک کا انتقال ہوا جبکہ 141 زیر علاج ہیں۔ باقی دیگر کیسوں میں 265 ایسے زائرین ہیں جو تفتان سے سکھر آئے جس کے بعد متاثرین کی تعداد صوبے میں 421 ہو گئی ہے۔