’’خلائی سلاد‘‘ بھی زمینی سلاد جتنی ذائقہ دار اور مفید ہے، تحقیق

فلوریڈا: (کوہ نورنیوز) خلاء میں اگائے گئے سلاد کے پتوں پر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اپنے ذائقے اور غذائیت کے اعتبار سے وہ زمین پر اگائے جانے والے سلاد کے پتوں جیسے ہیں، بلکہ بعض معاملات میں وہ زمینی سلاد پتوں سے بھی بہتر ہیں۔ سلاد کے جن پتوں کا تذکرہ یہاں کیا جا رہا ہے وہ 2014 سے 2016 کے درمیان عالمی خلائی اسٹیشن پر موجود خصوصی نظام ’’ویجیٹیبل پروڈکشن سسٹم‘‘ میں، بے وزنی کی حالت میں اگائے گئے تھے۔ اس نظام میں سبزیاں اُگانے کےلیے ایل ای ڈی کی روشنیوں اور آبپاشی کے خودکار نظام سے استفادہ کیا جاتا ہے، جنہیں انسانی مداخلت یا دیکھ بھال کی ضرورت نہیں ہوتی۔ خلائی اسٹیشن پر موجود عملے نے ان میں سے کچھ سلاد پتے کھائے تھے اور انہوں نے زمینی سلاد جیسا ہی ذائقے دار قرار دیا تھا۔ باقی سلاد پتوں کو منجمد کرکے واپس زمین پر بھجوا دیا گیا تھا۔ یہاں کینیڈی اسپیس سینٹر، فلوریڈا میں اسی عرصے کے دوران اُگائے گئے ’’زمینی سلاد پتے‘‘ سے ان کا محتاط اور تفصیلی حیاتیاتی و کیمیائی موازنہ کیا گیا۔ ریسرچ جرنل ’’فرنٹیئرز ان پلانٹ سائنس‘‘ میں اس حوالے سے شائع شدہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خلائی سلاد اپنی حیاتی و کیمیائی ترکیب (کیمیکل اینڈ بائیالوجیکل کمپوزیشن) کے اعتبار سے زمین پر اگائی جانے والی سلاد جیسی ہی ہے۔ البتہ یہ مفید معدنیات بالخصوص پوٹاشیم، سوڈیم، فاسفورس، سلفر اور زنک وغیرہ کے معاملے میں زمینی سلاد کی نسبت زیادہ بھرپور ہے۔ علاوہ ازیں، اس میں ’’فینولکس‘‘ نامی مفید مرکبات بھی زیادہ مقدار میں پائے گئے جو وائرس، سوزش اور سرطان تک کے خلاف اپنی مفید خصوصیات کے باعث مشہور ہیں۔ ایک اور اہم بات یہ بھی دیکھی گئی کہ خلائی سلاد میں ای کولائی یا سیلمونیلا جیسے مضرِ صحت جراثیم موجود نہیں جو عام طور پر زہر خورانی (فوڈ پوائزننگ) کی وجہ بنتے ہیں اور کھانے والے کو اسپتال پہنچا دیتے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب خلاء میں اگائی گئی غذا کو انسانی استعمال کےلیے مفید اور صحت بخش قرار دیا گیا ہے۔ اگلے مرحلے میں اسی طرح کی آزمائشیں دوسرے پھلوں، ٹماٹروں اور مرچوں پر بھی کی جائیں گی۔