سپیکر عبدالقدوس بزنجو نے وزیراعلیٰ بلوچستان کیخلاف تحریک استحقاق جمع کرادی

کوئٹہ: (کوہ نور نیوز) عبدالقدوس بزنجو نے تحریک استحقاق میں کہا ہے کہ وزیراعلیٰ نے میرے خلاف بیان میں غیر مہذب الفاظ استعمال کئے، بحیثیت سپیکر اسمبلی میرا استحقاق مجروح ہوا ہے۔ میرے خلاف بیان بازی کا معاملہ استحقاق کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ سپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کا میڈیا سے بات چیت میں کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ شاید یہ نہیں جانتے کہ سپیکر پورے ہاؤس کا سربراہ ہوتا ہے۔ میں نے تحریک استحقاق جمع کرائی ہے، اب یہ استحقاق کمیٹی کا کام ہے کہ وہ اس کو کیسے دیکھتی ہے۔ استحقاق کمیٹی وزیراعلیٰ اور وزرا کو کبھی بھی طلب کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے اس حکومت سے پہلے بھی اختلافات کئے تھے۔ اگر وزیراعلی مجھے سیریس نہیں لیتے تو بحیثیت سپیکر میرے الفاظ کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے بیشتر اراکین ناراض ہیں، وقت آنے پر سب سامنے آئیں گے۔ جب آپ سپیکر بن جاتے ہیں تو پارٹی سے بالاتر ہو کر سوچنے لگتے ہیں۔ ہم پارٹی کے اندر تبدیلی کی بات کر رہے ہیں، اس پارٹی کو ہر صورت عوامی پارٹی بنا کر دم لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں اب عوام تو دور کی بات خود وزرا نہیں جا سکتے۔ صوبہ بدحالی کا شکار ہو چکا ہے، اس سے بدتر حکومت صوبے کی تاریخ میں کبھی نہیں آئی۔ جو شخص ایک پارٹی نہیں چلا سکتا، وہ حکومت کیسے چلائے گا؟