کابینہ میں شمولیت کی دعوت، متحدہ نے حکومت کے سامنے 4 مطالبات رکھ دیئے

کراچی: (کوہ نور نیوز) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے اپنی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو ایک مرتبہ پھر کابینہ میں شمولیت کی دعوت دیدی۔ پاکستان تحریک انصاف کا وفد پی ٹی آئی سینئر رہنما جہانگیر خان ترین کی سربراہی میں ایم کیو ایم کے مرکز بہادرآباد پہنچا تو ان کے ساتھ وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک، ایم پی اے فردوس شمیم نقوی، وفاقی وزیر اسد عمر، خرم شیر زمان، حلیم عادل شیخ بھی ہمراہ تھے۔ پی ٹی آئی وفد کے حکومتی وفد نے ایم کیو ایم قیادت سے ملاقات شروع کی تھی، ایم کیو ایم وفد کی قیادت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کر رہے تھے جبکہ عامر خان، کنور نوید جمیل، فیصل سبزواری، امین الحق، نسرین جلیل اور محمد حسین بھی ہمراہ تھے۔ ایم کیو ایم نے حکومتی وفد کے سامنے چار اہم مطالبات رکھ دیئے، مطالبات میں حیدرآباد میں یونیورسٹی کا قیام شامل ہے، حیدرآباد کے لیے ترقیاتی بجٹ، کراچی کیلئے 162 ارب کے پیکیج پرعملدرآمد اور ایم کیوایم کے بند دفاتر کھولنے کا مطالبہ کر دیا۔ ملاقات کے دوران پی ٹی آئی سینئر رہنما جہانگیر ترین نے ایم کیو ایم پاکستان کو دوبارہ کابینہ میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ متحدہ مسائل اہم ہیں مگر سب چیزیں ایک دم ٹھیک نہیں ہوسکتیں۔ خالد بھائی ہم چاہتے ہیں آپ ساتھ رہ کر ملک وکراچی کی خدمت کریں۔ ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ کابینہ میں شامل ہونا اتنا بڑامسئلہ نہیں، ہمارے مسائل اہم ہیں۔ اس سے قبل جہانگیر ترین کی قیادت میں حکومتی وفد نے گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ملاقات کی جس میں مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکومتی وفد میں گورنر پنجاب چودھری سرور، وفاقی وزیر پرویز خٹک، اسد عمر اور حلیم عادل شیخ شامل ہیں، حکومتی وفد کی ایم کیو ایم رہنماؤں سے کچھ دیر بعد بہادر آباد میں ملاقات ہوگی۔ اس موقع پر گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، صوبے کی ترقی کیلئے وفاق کا بھرپور تعاون قابل تحسین ہے۔