متنازع شہریت قانون: آسٹریلیا بھارت ون ڈے میچ میں طالبعلموں سمیت شہریوں کا احتجاج

ممبئی: (کوہ نور نیوز،ویب ڈیسک) آسٹریلیا کی ٹیم ون ڈے سیریز کھیلنے کے لیے بھارت میں موجود ہے جہاں پر دونوں ٹیموں کے درمیان پہلے ون ڈے کے دوران شائقین کی بڑی تعداد بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی طرف سے منظور کیے گئے کالے متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرنے لگی۔ یاد رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی طرف سے کالے قانون کی منظوری کے بعد بھارت میں پر تشدد مظاہرے اور احتجاج شروع ہو گئے ہیں، اب تک تقریباً 35 افراد زندگی کی بازی ہار گئے ہیں، زیادہ تر ہلاکتیں ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ہوئی جہاں پر بھارتی وزیراعظم گجرات کی طرح کی پالیسیاں اپناتے ہوئے لوگوں کو مروا رہے ہیں، ان مظاہروں کے دوران بھارتی پولیس نے براہ راست مظاہرین پر فائرنگ بھی کی۔ سماجی رابطے ویب سائٹ ٹویٹر پر دیکھا جا سکتا ہے کہ شہریوں نے وزیراعظم نریندرا مودی کی طرف سے منظور کیے گئے متنازع کالے قانون کے خلاف احتجاج کیا، واکھنڈے سٹیڈیم میں نو این آر سی اور نو سی اے اے کی شرٹس پہن کر آگئے۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے متنازع قانون واپس لینے کی صدائیں بلند کیں، واکھنڈے سٹیڈیم میں زیادہ تر تعداد طالبعلموں کی تھی۔ جنہوں نے کہا کہ ہمیں این آر سی، سی اے اے بل کسی صورت بھی منظور نہیں۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں جہاں پر اس قانون کے سخت احتجاج کیا جا رہا ہے وہیں پر نئی دلی کا علاقہ شاہین باغ متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ شدید سردی کے باجود احتجاجی مظاہرے میں بڑا مجمع اکٹھا ہوگیا، کانگریس کے رہنما ششی تھرور بھی مظاہرین سے یک جہتی کرنے پہنچے۔ شاہین باغ میں ایک ماہ سے مظاہرین متنازع قانون کیخلاف احتجاجی دھرنا دیئے بیٹھے ہیں جبکہ بعض خواتین اپنے بچوں کو لیے اس مظاہرے میں موجود ہیں۔ احتجاج میں نہ صرف مسلمان بلکہ دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی شریک ہیں، جنہوں نے اپنے اپنے مذاہب کے مطابق عبادت بھی کی۔ کانگریس پارٹی کے رہنما اور سابق جونیئر مرکزی وزیر ششی تھرو ر بھی نئی دلی کے شاہین باغ پہنچے اور مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کیا، ششی تھرور نے جواہر لال نہرو (جے این یو) یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ کے واقعے کی مذمت بھی کی۔ اس سے قبل کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی ان کی والدہ سونیا گاندھی، بہن پریانکا گاندھی، بنگال کی وزیر اعلیٰ سمیت مختلف ریاستوں کے سربرہان نے علی الاعلان کیا ہے کہ کسی صورت بھی یہ بل اپنی ریاستوں میں لاگو نہیں کیا جائے گا۔