عراق میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی حملے سے غیر معمولی نقصان پہنچا: امریکی ٹی وی

امریکا : (کوہ نور نیوز) ایک امریکی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ عراق میں امریکا کے عین الاسد فوجی اڈے پر ایرانی حملے میں غیرمعمولی نقصان ہوا۔ ایران نے القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لیتے ہوئے عراق میں دو امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کیے تھے۔ ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فوجی اڈوں پر حملے میں 80 کے قریب افراد ہلاک ہوئے اور فوجی سازو سامان کو نقصان پہنچا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے حملے میں فوجی اڈوں کو معمولی نقصان پہنچا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ عراق کے عین الاسد فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے سے کم از کم 10 مقامات تباہ ہوئے۔رپورٹ کے مطابق فوجی اڈے پر تباہ کاری کے مناظر کچھ اور ہی کہانی بتا رہے ہیں، تباہی کے مناظر سے غیر معمولی صورتحال کا اشارہ ملتا ہے۔ امریکی ٹی وی کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایرانی حملے میں امریکی فوجیوں کے رہائشی کوارٹرز بھی تباہ ہو چکے ہیں تاہم ایڈوانس وارننگ سسٹم کے باعث جانی نقصان نہیں ہوا۔ فوجی اڈے تک رسائی پانے والی صحافی نے کہا کہ فوجیوں نے انہیں بتایا ہے کہ حملے سے کئی گھنٹے قبل جان گئے تھے کہ کچھ نہ کچھ ہونے جا رہا ہے اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی تھیں۔ امریکی فوجی نے صحافی کو یہ بھی بتایا کہ رات ایک بج کر 34 منٹ پر میزائل حملے شروع ہوئے تو کچھ فوجی بنکرز میں موجود تھے جب کہ زیادہ تر چیک پوسٹوں پر تعنیات تھے۔ ایک اور امریکی فوجی نے بتایا کہ حملے کا منظر بیان کرنا مشکل ہے، انتہائی خوفناک تھا لیکن احتیاطی تدابیر اور محفوظ مقامات پر منتقلی سےجان بچ گئی۔