بچوں سے زیادتی اور قتل کے واقعات، چھوٹے طلبہ نے ہتھیار اٹھا لیے

جھنگ: (کوہ نور نیوز) پڑھے لکھے پنجاب کے دعوے کرتی انتظامیہ کی ناکامی کے بعد اپنی حفاظت کے لیے چھوٹے طلبہ نے ہتھیار اٹھا لیے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب کے ضلع جھنگ میں تھانہ قادرپور کی حدود میں طلبہ اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ ساتھ لے کر چلنے لگے ہیں، رواں سال بچوں سے زیادتی اور قتل کے واقعات پر طلبہ میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ پولیس انھیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے، جان کا خطرہ ہے اس لیے ہتھیار ساتھ لے کر چلنے لگے ہیں۔ موٹر سائیکل پر اسکول جاتے ایک طالب علم نے پستول دکھاتے ہوئے کہا کہ اس کے بھائی کو قتل کیا گیا لیکن پولیس قاتل کو نہیں پکڑ سکی، انصاف نہیں ملا، مجھے بھی مار سکتے ہیں، اس لیے ہتھیار اٹھا لیا۔ خیال رہے کہ پنجاب میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات تواتر کے ساتھ پیش آ رہے ہیں، 28 نومبر کو ضلع جھنگ کی تحصیل شورکوٹ کے محلہ عباس پورہ کے رہایشی 18 سالہ نوجوان کو قتل کیا گیا تھا، ورثا کا کہنا تھا کہ مقتول کو زیادتی کے بعد تشدد کر کے قتل کیا گیا۔ قتل کے واقعے کے خلاف ورثا نے جھنگ ملتان روڈ بلاک کر کے احتجاج بھی کیا۔ جھنگ، تھانہ سٹی کے علاقے میں 14 سالہ بچی تصدق شازیہ کو اغوا کے بعد گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا، جو تین دسمبر کو اغوا کاروں کے چنگل سے 7 ماہ بعد بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئی۔ پولیس نے خبر میڈیا کی زینت بننے کے بعد تھانہ سٹی میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ نومبر کے وسط میں جھنگ ہی میں پولیس کو ایک بوری بند لاش ملی، جس کی تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ شازیہ نامی بچی کو آصف نامی درندے نے بہلا پھسلا کر گھر بلایا اور زبردستی کرنے کی کوشش کی لیکن مزاحمت پر اس نے بچی کو پھندا ڈال کر قتل کر دیا۔ 28 نومبر کو جھنگ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عطا الرحمان نے آفیسرز سائنس کالج میں بچوں کے جنسی استحصال کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ کمیونی کیشن کو مضبوط بنائیں اور انھیں جسمانی شعور دیں۔