پائپوں میں تیرنے اور رساؤ کا پتا لگانے والے گیند روبوٹ

ایمسٹر ڈیم، ہالینڈ: (کوہ نور نیوز) پاکستان سے لے کر امریکا تک زیرِ زمین پانی کے پائپوں کی ٹوٹ پھوٹ کا خیال رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے جو آج بھی ایک چیلنج بن چکا ہے، اب چھوٹی پیراک گیندوں پر مشتمل روبوٹ بہت مؤثر انداز میں یہ سب کام کرسکتے ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب پانی کی پائپ لائنوں میں تیرتی ہوئی گالف گیندیں کسی رکاوٹ، پائپوں کے زنگ اور پانی کے رساؤ کی فوری خبر دے سکیں گی۔ ہالینڈ میں آئنڈ ہووِن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے پیٹر بالٹس اور ان کے ساتھیوں نے گالف کی گیند کی جسامت کے سینسر بنائے ہیں جو ذخیرہِ آب یا پائپ لائنوں میں پانی کی کیفیت، معیار، بہاؤ اور پائپوں کی لیکج کو نوٹ کرسکتے ہیں۔ ہر روبوٹ میں ایک مائیکرو پروسیسر، سینسر، بیٹری اور میموری سرکٹ نصب ہے جسے آواز، درجہ حرارت، دباؤ، گھماؤ اور مقناطیسی نظام کو محسوس کرنے کے لیے پروگرام کیا جاسکتا ہے۔ اسی بنیاد پر ہر روبوٹ کئی طرح کے کردار ادا کرسکتا ہے۔ بجلی کی بچت کے لیے ہر گیند سینسر بدلتی ہوئی صورتحال کے تحت کام کرتا ہے۔ مثلاً پانی کے بہاؤ کی آواز سے گیند گھومتی ہے اور روبوٹ بھی اپنے آپ کو تبدیل کرکے توانائی کی بچت کرتا رہتا ہے۔ پروفیسر بالٹس نے بتایا کہ پائپ میں کسی بھی جگہ کوئی رساؤ یا ٹوٹ پھوٹ ہو تو سینسر عین اسی جگہ کا سگنل بھیجتا ہے اور وہاں ادارے کھدائی کرکے اس رساؤ کو دور کرسکتے ہیں۔ اس طرح وقت اور محنت کی بچت ہوسکے گی اور قیمتی پانی کو ضائع ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جی پی ایس طریقے پر کام کرتے ہوئے ہر سینسر گزرتے ہوئے اپنے راستے سے آگاہ کرتا ہے اور اس طرح پورے شہر کے نیچے بچھے پائپوں کا نقشہ بھی بنایا جاسکتا ہے جو اکثر شہروں میں غائب ہیں۔ کیونکہ بعض پائپ لائنیں 50 سے 100 سال پرانی ہیں جن کی دستاویز بھی پوری نہیں اور اسی وجہ سے پانی کے نقشوں کو نئے سرے سے بنانے کی اشد ضرورت ہے۔