اسلام آباد ہائی کورٹ کا بچوں سے زیادتی کے بڑھتے واقعات پر بڑا فیصلہ

اسلام آباد: (کوہ نور نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے بچوں سے زیادتی کےبڑھتےواقعات پر بڑا فیصلہ دیتے ہوئے کہا زیادتی کیس کی تفتیش اےایس پی سےکم رینک کا افسر نہیں کرے گا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے بچوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر بڑا فیصلہ سناتے ہوئے کہا زیادتی کیس کی تفتیش اےایس پی سےکم رینک کاافسرنہیں کرے گا۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے بہارہ کہو زیادتی کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا، تحریری حکم نامے میں عدالت نے زیادتی کے واقعات کے سدباب کے لئے خصوصی ہدایات بھی جاری کردیں ہیں، جس میں آئی جی اورچیف کمشنر اسلام آباد کو خصوصی لائحہ عمل تیار کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔ فیصلے میں کہا گیا بچوں سےزیادتی کےملزمان کامیڈیکل بورڈسےمعائنہ کرایاجائے، درخواست ضمانت آنےپرملزم کےکرمنل ریکارڈکوبھی حصہ بنایاجائے اور ریکارڈ سے تعین کیا جائے کہ ضمانت کی صورت میں دوبارہ جرم کا امکان تو نہیں۔ گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھارہ کہو کے مدرسے میں بچے سے زیادتی کے کیس کی سماعت ہوئی تھی ، عدالت میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد کی جگہ ایڈیشنل آئی جی (اے آئی جی) عدالت میں پیش ہوئے تھے ، عدالت نے کیس کی درست تفتیش نہ کرنے پر تفتیشی افسر پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ قرآن کی تعلیم دینے کی جگہ پر بچے کے ساتھ بدفعلی کی گئی، پولیس کیا کر رہی ہے ، جس معاشرے میں بچوں کی حفاظت نہ ہوسکے وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے، بچوں کا تحفظ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ خیال رہے کہ بھارہ کہو کے مدرسے میں زیادتی کا واقعہ رواں برس 28 اگست کو پیش آیا۔ ابتدائی معلوماتی رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق واقعہ مدرسہ تحفیظ القرآن میں ہوا۔ ایف آئی آر کے مطابق بچے کے والدین نے فوری طور پر مدرسے کے قاری ارشد کو بتایا لیکن اس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ ملزم ذیشان خود بھی مدرسے میں زیر تعلیم ہے اور اس کی عمر 17 سال ہے، ملزم نے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔