جدید ’خواجہ سگ پرست‘ جس نے 750 کتوں کو پناہ دے رکھی ہے!

میونخ: (کوہ نور نیوز) ساشا پیسک کا تعلق سربیا کے تاریخی شہر نیش سے ہے، لیکن ان کی اپنی وجہ شہرت وہ 750 کتے ہیں جنہیں انہوں نے اپنے پاس پناہ دے رکھی ہے اور جن کا خیال وہ دن رات رکھتے ہیں۔ ہوا یوں کہ ساشا نے 2008 میں کتے کے کچھ ایسے پلّوں کی جان بچائی تھی جنہیں کسی نے شدید سردی میں مرنے کےلیے چھوڑ دیا تھا۔ تب سے لے کر آج تک، پچھلے گیارہ سال میں وہ 1200 سے زیادہ کتوں کی جان بچا چکے ہیں جن میں سے 750 کتوں کو انہوں نے اپنی ہی بنائی ہوئی ایک پناہ گاہ میں رکھا ہوا ہے۔ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ ساشا پیسک نے اپنی پوری زندگی ہی کتوں کی فلاح و بہبود کےلیے وقف کردی ہے۔ 2015 سے پہلے تک انہیں کوئی نہیں جانتا تھا لیکن اس سال ان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس میں انہیں جان پر کھیل کر ایک کتے کی جان بچاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ صرف فیس بک پر اس ویڈیو کو 6 کروڑ سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دنیا بھر سے لوگوں نے ان سے رابطہ کیا اور ان کا ساتھ دینے کی خواہش ظاہر کی۔ پھر ان پر دستاویزی فلمیں بھی بنائی گئیں اور کئی ویڈیو بلاگرز نے ان کی کاوشوں پر ولاگز بھی ترتیب دیئے۔ ساشا کہتے ہیں کہ ان کی پناہ گاہ میں اب تک 1200 کے لگ بھگ کتے آچکے ہیں جن میں سے 350 کتوں کو مختلف ممالک کے لوگوں نے گود لے لیا ہے۔ انہوں نے پُرافسوس انداز میں بتایا کہ نیش اور سربیا کے دیگر قریبی علاقوں میں رہنے والے ان کی بہت کم حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ان سے اکثر کہا جاتا ہے کہ وہ لاوارث کتے پالنے کا فضول کام چھوڑ دیں، مگر وہ اپنی زندگی اس کام کےلیے وقف کرچکے ہیں۔ ’’مجھے اس وقت زیادہ افسوس ہوتا ہے جب کوئی شخص اپنا کتا میری بنائی ہوئی پناہ گاہ میں چھوڑنے کےلیے آتا ہے تو واپس جاتے ہوئے مجھے یہ کام چھوڑنے کا مشورہ دے ڈالتا ہے،‘‘ ساشا نے ایک ویب سائٹ کے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا۔ انہیں اس بات کا بھی دکھ ہے کہ کتوں کی اس پناہ گاہ سے اب تک جتنے لوگوں نے بھی کتے گود لیے ہیں، وہ سب کے سب غیر ملکی ہیں جبکہ نیش اور سربیا کے دیگر علاقوں والوں نے اس میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ شروع میں وہ کتوں کا خیال رکھنے کا سارا کام اپنی جیب سے کرتے تھے جو بڑی مشکلوں سے ہی پورا پڑتا تھا۔ البتہ جب سے ان کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے، تب سے دنیا بھر میں لوگوں نے انہیں امدادی رقوم بھیجنا شروع کردی ہیں۔ اس پناہ گاہ میں رکھے گئے کتوں کا خیال وہ خود رکھتے ہیں لیکن دوسرے کئی کاموں کےلیے انہیں معاوضے پر خدمات حاصل کرنی پڑتی ہیں کیونکہ آس پاس کے لوگ ان کے کام کو بالکل غیر ضروری اور وقت کی بربادی سمجھتے ہیں۔ اس وقت بھی ان کی پناہ گاہ میں موجود کتوں کا ماہانہ خرچہ تقریباً 10 ہزار یورو ہے جو پاکستانی روپوں میں 17 لاکھ پاکستانی روپیوں سے کچھ زیادہ بنتا ہے؛ اور یہ سارا خرچہ بیرونی امداد سے پورا کیا جارہا ہے۔ ان تمام معلومات کی روشنی میں ہم ساشا پیسک کو دورِ جدید کا ’’خواجہ سگ پرست‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اگر آپ نہیں جانتے تو انٹرنیٹ سرچ کیجیے، خواجہ سگ پرست کی کہانی آپ کو ضرور کہیں نہ کہیں مل جائے گی۔