کویت کا خواتین گھریلو ملازمین کی ’آن لائن فروخت‘ کیخلاف سخت ایکشن

کویت : (کوہ نور نیوز) کویت نے خواتین گھریلو ملازمین کی آن لائن خرید و فروخت کرنے والے اکاؤنٹس کے خلاف سخت ایکشن لے لیا۔ کویتی حکام نے انسٹاگرام اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر خواتین گھریلو ملازمین کی خریدو فروخت کرنے والے اکاؤنٹس کا ایکشن برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں لیا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ خواتین کو گھریلو ملازمین کے طور پر فروخت کرنے کے لیے آن لائن مارکیٹ ہے جن کے لیے ایپس استعمال کی جاتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ ایپس گوگل اور ایپل پر دستیاب ہیں جن میں فیس بک کی ملکیت والی انسٹاگرام ایپ بھی شامل ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ انسٹاگرام کے متعدد اکاؤنٹس اور دیگر ایپس پر خواتین کو کام کرنے کے لیے فروخت کیا جاتا تھا جس کے لیے ’میڈ فار سیل‘ یعنی ’ گھریلو ملازمہ برائے فروخت ‘ کا ہیش ٹیگ بھی بنایا گیا تھا، ان خواتین کو گھروں میں بھیج کر غیر قانونی کام پر بھی مجبور کیا جاتا تھا۔ کویتی حکام نے انسٹاگرام پر اس قسم کے اکاؤنٹس چلانے والے متعدد اکاؤنٹس ہولڈرز کو طلب کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا۔ کویت کی پبلک اتھارٹی فار مین کے سربراہ ڈاکٹر مبارک علی عظمی کا کہنا ہے کہ خواتین کی آن لائن خرید و فروخت میں ملوث افراد کو سخت سزا دی جائے گی اور انہیں اس کا ازالہ کرنا ہوگا۔ دوسری جانب انسٹا گرام پر خواتین گھریلو ملازمین کی خریدو فرخت سے متعلق بی بی سی کی رپورٹ پر انسٹاگرام نے بھی سخت نوٹس لیا ہے۔ انسٹاگرام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ اس قسم کے اکاؤنٹس کو ختم کردیاگیا ہے اور اس مقصد کے لیے بننے والے نئے اکاؤنٹس کو بھی ختم کردیا جائے گا۔ علاوہ ازیں گوگل اور ایپل کا بھی کہناہے کہ وہ ایپ ڈیولپرز کے ساتھ مختلف پلیٹ فارمز پر غیرقانونی کام کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔