ہمیں خوددار قوم بننا ہے تو ٹیکس دینا پڑے گا، وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد: (کوہ نور نیوز) وزیراعظم عمران خان کا کامیاب نوجوان پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دنیا میں وہ قومیں آگے بڑھتی ہیں جن میں میرٹ کا نظام ہو۔ مدینہ کی ریاست میں بھی میرٹ کا نظام قائم تھا۔ مسلمان ہزار سال تک دنیا میں سپر پاور رہے۔ شاہ ولی اللہ سے کسی نے پوچھا کہ مسلمان پستی کا شکار کیوں ہوئے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ مسلمان جمہوریت کا نظام چھوڑ کر بادشاہت کی جانب چلے گئے اور سب جانتے ہیں کہ بادشاہت میں میرٹ کا نظام نہیں ہوتا جبکہ دوسری جانب مغرب نے جمہوریت کے باعث ترقی کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں کامیاب نوجوان پروگرام پر عثمان ڈار کو مبارکباد دیتا ہوں کیونکہ اس پروگرام میں میرٹ کو یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ ہمیشہ سوچ بڑی رکھنا۔ دنیا میں بڑے بڑے امیر لوگ آئے لیکن صرف دنیا اسے یاد رکھتی ہے جو انسانوں کیلئے کچھ کرکے جاتا ہے، یہ باتیں میری زندگی کا نچوڑ ہیں۔ وہ انسان اوپر جاتا ہے، جس کی سوچ بڑی ہوتی ہے، جس کا خواب بڑا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے سفارش اور کرپشن سے بچنے کی تلقین کی، ہمارے ملکی حالات خراب ہونے کی بڑی وجہ سفارش اور کرپشن ہی ہیں۔ ہمارا ملک اسی وقت ترقی کرے گا جب یہ دونوں چیزیں نہیں ہونگی۔ ماضی میں میرٹ کو نظر انداز کیا گیا جس کی وجہ سے پاکستان میں مسائل ہیں۔ وزیراعظم نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ نبی ﷺ کی زندگی سے سیکھو، اگر آپ نے بڑا انسان بننا ہے تو نبی ﷺ کی تعلیمات سے سیکھیں۔ ہم کچھ بھی کر لیں، پیارے نبی ﷺ کی پاؤں کی مٹی کی خاک برابر بھی نہیں ہو سکتے۔ وزیراعظم نے تقریب کو کشت زعفران بناتے ہوئے کہا کہ ہم مولانا فضل الرحمان کے لوگوں کو بھی قرضے دیں گے اگر وہ میرٹ پر پورے اتر آئے کیونکہ مجھے پتا ہے کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے، تاہم میں اس پر مزید بات نہیں کرونگا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 14 ماہ میں سب سے بڑا مسئلہ جو پیش آیا وہ یہ کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے، تاجر ٹیکس دینے کو تیار نہیں ہیں، ہم ٹیکس نہیں دیں گے تو ملک کیسے چلے گا؟ ٹیکس دیتے نہیں، لا اینڈ آرڈر، تعلیم اور صحت کی سہولتیں مانگتے ہیں۔ ہمیں اپنے ذہنوں کو تبدیل کرنا ہوگا، قرضے لے کر بڑی قوم نہیں بن سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ کامیاب جوان پروگرام میں 100 ارب کے قرضے دیئے جائیں گے جن میں سے پچیس فیصد خواتین کے لیے مختص ہیں۔ گارںٹی دیتا ہوں، دس لاکھ نوجوانوں کو میرٹ پر قرضہ دیں گے۔ ان میں سے 10 ارب روپیہ سکل ایجوکیشن پر خرچ کریں گے۔ ایک لاکھ نوجوانوں کوٹیکنالوجی سکھائیں گے۔ کامیاب نوجوان پروگرام کو خود مانیٹر کرونگا۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ اقلیتوں کو نئے پاکستان میں برابر کے حقوق دیں گے۔ یوتھ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن بنائیں گے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں، پورے ملک میں ایک ہی تعلیم کا نظام ہو۔ مدارس کے بچوں کو اپنے بچے سمجھنا ہے۔ ہم انھیں دینی تعلیم کے علاوہ سائنس بھی پڑھائیں گے جبکہ مدارس کے اندر 500 سکل لیبارٹریز بنائیں گے۔