معاشرتی تناو جمہوریت کیلئے خطرہ ہے: چیف جسٹس

اسلام آباد: (کوہ نور نیوز) نئے عدالتی سال کے آغاز پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ججز کیخلاف شکایات سننے والی کونسل بے خوف، بغیر دباؤ کے کام کر رہی ہے، سپریم جوڈیشل کونسل سے قانون کے مطابق انصاف کےعلاوہ کوئی امید نہ رکھی جائے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ بنچ اور بار جمہوریت، آئینی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کیلئے اکھٹے کھڑے ہیں، جمہوریت، آئین و قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو بنچ اور بار مزاحمت کریںگے۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں 4 شکایات درج ہوئیں، ان کا کہنا تھا کہ چار شکایات میں سے ایک صدارتی ریفرنس بھی تھا، صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ میں زیر التوا آئینی درخواست کے سبب کارروائی روک دی گئی ہے، بطورادارہ اس تاثر کو کہ ملک میں جاری احتساب سیاسی انجینیئرنگ ہے بہت خطرناک سمجھتے ہیں، اس تاثر کے خاتمے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں تاکہ شفافیت برقرار رہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ریاست کی لوٹی ہوئی دولت کی ریکوری احسن اقدام ہے، لوٹی ہوئی دولت کی قانون کے مطابق ریکوری ضروری ہے، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ اقدار پر سمجھوتہ معاشرے کیلئے نقصان دہ ہے، اس سے سماجی اور معاشی انصاف سے متعلق قرارداد مقاصد کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان کا دیباچہ بھی سیاسی انصاف کی ضمانت دیتا ہے، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر لگائی جانیوالی قدغن بھی تشویشناک ہے، اظہار رائے کو دبانے سے معاشرے میں ذہنی تناؤ پیدا ہوتا ہے، معاشرتی تناو جمہوریت کیلئے خطرہ ہے، مختصر سیاسی مقاصد اور طرز حکمرانی کیلئے شہریوں کے آئینی حقوق پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ فل کورٹ ریفرنس تک مسودہ تیار کرلیا جائے گا، از خود نوٹس کے مسئلہ کو ہمیشہ کیلئے حل کر لیا جائے گا، ازخود نوٹس پر عدالتی گریز زیادہ محفوظ اور کم نقصان دہ ہے۔ اپنے گھر کو درست کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، ضرورت پڑنے پر عدالت ازخود نوٹس کا اختیار استعمال کرے گی، آئندہ فل کورٹس ریفرنس تک ازخود نوٹس کے استعمال کا مسودہ تیار کرلیا جائے گا اور اس معاملے کو بھی ہمیشہ کیلئے حل کر لیا جائے گا، سو موٹو کا اختیار قومی اہمیت کے معاملے پر استعمال کیا جائے گا، کسی کے مطالبے پر لیا گیا نوٹس ازخود نوٹس نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین صدر مملکت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کونسل کو کسی جج کے کنڈکٹ کی تحقیقات کی ہدایت کرے، سپریم جوڈیشل کونسل اس طرز کی آئینی ہدایات سے صرف نظر نہیں کرسکتی۔ اٹارنی جنرل انورمنصور نے زیر التوا مقدمات کی تعداد میں کمی ہونے پر سپریم کورٹ کی کار کردگی کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2 ستمبر 2019 تک41 ہزار 553 زیر التواء مقدمات میں سے 19791 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا۔