سائنسدانوں نے مویشیوں کیلئے ماحول دوست چارا تیار کر لیا

لاہور: (کوہ نور نیوز) ماہرین نے مویشیوں کے لیے ایک ایسا چارا تلاش کر لیا ہے جو نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ مویشی اسے خوشی خوشی کھاتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ چارا ماحول دشمن گیسوں کے اخراج کا باعث بھی نہیں بنتا۔ سائنس میگزین کی رپورٹ کے مطابق یہ چارا گرم ساحلی علاقوں میں پیدا ہوتا ہے، گلابی رنگ کا یہ چارا دراصل سمندری جھاڑ (Seaweed) ہے جس کا حیاتیاتی نام Asparagopsis Taxiformis ہے اور اس کے فوائد بہت زیادہ ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محققین اس وقت ان کوششوں میں مصروف ہیں کہ اس سمندری جھاڑ کو بڑے پیمانے پر کس طرح پیدا کیا جائے، تحقیق کے دوران یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ یہ چارا کھانے کے بعد مویشی جب ڈکار لیتے ہیں تو ماحول دشمن گیس ’’میتھین‘‘ خارج نہیں ہوتی۔ یونیورسٹی آف سن شائن کوسٹ کے ماہر حیاتیات نک پاؤل کہتے ہیں کہ جب یہ گلابی رنگ کی سمندری جھاڑ گائے کے چارے میں شامل کی گئی تو میتھین کی پیداوار مکمل طور پر ختم ہو گئی، اس جھاڑ میں وہ کیمیائی مرکبات ہیں جو گائے کے معدے میں موجود بیکٹیریا کو کم کرتے ہیں جس کے باعث ڈکار لینے کے نتیجے میں میتھین گیس پیدا نہیں ہوتی۔ واضح رہے کہ میتھین گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے مقابلے میں 23 گنا زیادہ خطرناک ہے اور اوسطاً ایک گائے سالانہ 70 سے 120 کلوگرام میتھین ڈکار لیتے ہوئے خارج کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ماہرین مویشیوں کا چارا تبدیل کرنے پر غور کر رہے تھے کیونکہ 100 کلوگرام میتھین کا اخراج 2300 کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں گائے بھینسوں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ ارب ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مویشی کس قدر ماحول دشمن گیس خارج کرتے ہیں۔