چینی سائنسدانوں نے سوار کے بغیر دوڑنے والی سائیکل بنالی

بیجنگ: (کوہ نور نیوز) ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیوں پر ٹیکنالوجی کمپنیوں گوگل اور ٹیسلا کی مشق جاری ہے لیکن چینی ماہرین نے اس ضمن میں ایک اہم کارنامہ انجام دیا ہے، انہوں نے ایسی سائیکل بنائی ہے جو کسی سوار کے بغیر خود دوڑ سکتی ہے، اس میں نصب کمپیوٹر نظام سائیکل کو آواز کی ہدایات پر بھی چلاسکتا ہے۔ ثبوت کے طور پر ایک ویڈیو بنائی گئی ہے جس میں سائیکل کو آواز کے اشاروں پر دائیں، بائیں مڑتے اور سیدھا چلتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس سائیکل کو رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ماہرین نے اس پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ اس کا دل و دماغ ایک کمپیوٹر چپ ’تیانجک‘ ہے جو دو مختلف طریقوں سے سائیکل کو ہدایت دیتی ہے۔ یہ سائیکل خود کو بہت اچھی طرح متوازن رکھتی ہے اور آواز کے بل پر ازخود دوڑتی ہے اور رکاوٹوں کا بھی شعور رکھتی ہے۔ ماہرین نے چپ کے دونوں امور کو کامیابی سے استعمال کیا ہے ورنہ اس سے قبل یہ ممکن نہ تھا۔ یعنی یہ سائیکل ایک خاص چپ کے دونوں پہلو استعمال کرتی ہے۔ یعنی ایک جانب تو اس میں مشین لرننگ کی سہولت ہے اور دوسری جانب انسانی دماغی نیٹ ورک کی طرح عمل کرتی ہے۔یہ تحقیق سینٹر فار برین انسپائرڈ کمپیوٹنگ ریسرچ نے کی ہے جو سنگہوا یونیورسٹی میں واقع ہے۔ اسے بنانے والے تخلیق کار کہتے ہیں کہ صرف ایک مائیکروچپ سے ہم نے کئی الگورتھم کی پروسیسنگ کرتے ہوئے اسے سائیکل کے ماڈل پر آزمایا ہے۔ اس پر مزید پیش رفت سے ہارڈویئر اور سواریوں کو قابو کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سائیکل کو دنیا بھر کے ماہرین نے دیکھا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ چین ایک نئے شعبے ’آرٹیفشل جنرل انٹیلی جنس‘ میں تیزی سے ترقی کررہا ہے، ایک جانب تو دنیا کی جدید ترین اے آئی چپس بنائی جارہی ہیں تو دوسری جانب مصنوعی ذہانت والے نیوز کاسٹر بھی تیار کرلیے گئے ہیں۔