پاکستان کے پاس قرضوں کا ریکارڈ رکھنے کا موثر نظام نہیں، عالمی بینک

اسلام آباد: (کوہ نور نیوز) حکومت پاکستان کے پاس قرضوں کا ریکارڈ اور رپورٹنگ کے حوالے سے کوئی مربوط نظام موجود نہیں اور نہ ہی سرکاری اثاثہ جات کو ضابطہ کار میں لانے کا کوئی موثر نظام ہے جس کے باعث اربوں روپے کے فنڈز میں بے ضابطگیاں اور عدم مطابقت پیدا ہوتی ہے۔ عالمی بینک کی جانب سے سرکاری اخراجات اور مالیاتی احتسابی جائزہ پر مبنی 2019 کی رپورٹ کے فائنل ڈرافٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کے پاس قرضوں کا ریکارڈ اور رپورٹنگ کے حوالے سے کوئی مربوط نظام موجود نہیں اور نہ ہی سرکاری اثاثہ جات کو ضابطہ کار میں لانے کا کوئی موثر نظام ہے۔ رپورٹ میں سرکاری اثاثہ جات اور جاری واجبات کی تنظیم کاری ،مینجمنٹ میں بے انتہا سقم اور خامیاں پائی جاتی ہیں، عالمی بینک کی جانب سے یہ انکشافات وزارت خزانہ کے خلاف چارج شیٹ کے مترادف ہیں عالمی بینک کی اس رپورٹ میں سن 2016-2015 سے لے کر 2018-2017 کے مالیاتی سالوں کا جائزہ لیا گیا ہے تاہم اس عرصے کے دوران جو بیورو کریسی ان اقدامات کی ذمے دار تھی وہ آج بھی وزارت خزانہ میں اپنے عہدوں پر براجمان ہیں۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں جن مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں سے بیشتر آج بھی حل طلب ہیں،عالمی بینک کی رپورٹ سے عیاں ہوتا ہے کہ اثاثہ جات اور جاری واجبات کی تنظیم کاری یا منیجمنٹ کے حوالے سے حکومت کی کارکردگی بہت خراب رہی۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران مالیاتی سطح پر حکومت کو مالیاتی خطرات کے باعث مختلف حیثیتوں میں گریڈ کم رہے جن میں ملک کی حیثیت سے بی گریڈ ، پبلک انویسٹمنٹ منیجمنٹ میں ڈی پلس، اور قرضہ جات کی منیجمنٹ میں بی پلس گریڈ حاصل رہا۔ عالمی بنینک اور یورپی یونین کے مشترکہ جائزے کے مطابق پاکستان کی جانب سے قرضہ جات کی تنظیم کاری اور ان پر کنٹرول بڑی حد تک تسلی بخش رہا اس پر پاکستان کو بی پلس گریڈ دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مقامی اور بیرونی قرضہ جات اور گارنٹیز کے حوالے سے زیادہ تر معلومات سہہ ماہی بنیادوں پر ریکارڈ کی جاتی ہے تاہم اس کے باوجود اس حوالے سے کوئی مربوط نظام موجود نہیں ہے۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ اس وقت اسٹیٹ بینک آف پاکستان، وزارت خزانہ اور مالیاتی امور سے متعلق وزارت علیحدہ علیحدہ ان تمام قرضہ جات اور جاری واجبات کا ریکارڈ رکھتی ہیں تاہم مختلف سطحوں پر مختلف اداروں کی شمولیت کے سبب ضرورت ہے کہ ایک مربوط اور منظم سسٹم وضع کیا جائے کہ جو تمام مالیاتی معاملات جن کا تعلق قرضہ جات اور واجبات سے ہے۔ اسے ایک جگہ ریکارڈ کرسکے۔عالمی بینک کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک اور حکومت پاکستان کی جانب سے قرضہ جات کے حوالے سے اعداد و شمار اور ڈیٹا کے درمیان فرق پایا جاتا ہے اور یہ فرق سہہ ماہی بنیادوں پر تیار کی جانے والے رپورٹ میں واضح ہے۔ ڈیٹ لمیٹیشن ایکٹ 2005 کی خلاف ورزی کرنے کے باعث عالمی بینک نے پاکستان کو قرضہ جات کی منظوری کے گریڈ میں کمی کرتے ہوئے اسے بی گریڈ دیا تاہم ان قرضہ جات کی تنظیم کاری کے حوالے سے وہ اے گریڈ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ مالیاتی خطرات کی نشاندہی کا ذکر کرتے ہوئے عالمی بینک کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ تمام سرکاری اداروں کی نگرانی نہیں کرتی اور اسے صرف ان سرکاری ادروں کی مالیاتی رپورٹس سے دلچسپی ہے کہ جو ڈیونڈز فراہم کرتے ہیں۔ اس حوالے سے حکومت پاکستان کو سی گریڈ دیا گیا۔ وزارت خزانہ کی جانب سے مختلف منصوبوں کی معاشی تجزیے میں ناکامی ، ان منصوبوں کی منظوری، اور پھر ان کی خراب نگرانی اور مالیاتی نقصان کے باعث عالمی بینک نے پبلک انویسٹمنٹ منیجمنٹ کے تحت اسے ڈی پلس گریڈ گیا جو سب سے کم ہے۔