کیا فیس ایپ پر ’پرائیویسی‘ محفوظ نہیں؟

لاہور: (کوہ نور نیوز) سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح مقبول ہوتی فیس ایپ کی پرائیوسی کے حوالے سے صارفین الجھن کا شکار تھے جسے فیس ایپ انتظامیہ نے اپنے ایک وضاحتی بیان کے ذریعے دور کردیا ہے۔ تیزی سے وائرل ہونے والی فیس ایپ اس وقت سوشل میڈیا پر سب کی تفریح طبع کا باعث بن گئی ہے جس کے کرشمے نے عام صارف سے لیکر شوبز کی مشہور شخصیات تک کو محصور کردیا ہے، یہ ایپ صارف کی موجودہ شکل و صورت کو جوانی اور بڑھاپے کے فرق کے ساتھ پیش کرنے کی حیرت انگیز مہارت رکھتی ہے۔ ہر کوئی اپنی موجودہ تصویر کو ایڈیٹ کرکے بڑھاپے میں کس طرح دکھائی دیں گے جاننے کے لیے بے تاب نظر آتا ہے، جیسے جیسے اس کا استعمال بڑھتا گیا ویسے ویسے پرائیویسی سے متعلق سوالات بھی جنم لینے گے کیوں کہ تصویر ایڈیٹ کے دوران کلاؤڈ میں محفوظ ہو جاتے ہیں جہاں کمپنی کا کنٹرول ہوتا ہے اور صارف حذف بھی نہیں کرسکتا۔ فیس ایپ نے صارفین کی تشویش کو مد نظر رکھتے ہوئے اس حوالے سے تفصیلی بیان جاری کیا ہے جس میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ تصاویر میں ترمیم کے دوران تصویر کو سیو کر لیا جاتا ہے تاہم یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ صارفین کی پرائیویسی اور ان تصاویر کے منفی استعمال کو روکنے کا نظام موثر ہے۔ اس لیے صارفین پریشان نہ ہوں۔ ایپ انتظامیہ نے مزید کہا کہ تصاویر کلاؤڈ میں اپ لوڈ کرنے کے دوران محفوظ ہو جاتی ہیں تاکہ ایپ کی کارکردگی بہتر رکھی جا سکے اور اس کا دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس طرح صارف کو بار بار ایک ہی تصویر اپ لوڈ نہیں کرنا پڑتی اور اس بات کا بھی اطمینان رہے کہ یہ تصاویر اپ لوڈ ہونے کے 48 گھنٹوں بعد کلاؤڈ سے ہٹا دی جاتی ہیں۔ علاوہ ازیں صارفین ان تصویروں کو 48 گھنٹوں سے قبل ہٹانا چاہتے ہیں تو وہ اس کے لیے ایپ کو درخواست کر سکتے ہیں جس پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے تاہم ٹیم پر کام کا بوجھ ہونے کے باعث اس میں تاخیر ہوسکتی ہے اس لیے موبائل ایپ کے سیٹنگ مینو میں ہی عنقریب اس کا حل پیش کردیا جائے گا۔