جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر آج حمزہ شہباز کو عدالت میں پیش کیا جائے گا

لاہور: (کوہ نور نیوز) نیب حکام آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کو آج احتساب عدالت میں پیش کریں گے ، جہاں مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت آج ہوگی، احتساب عدالت کےجج جوادالحسن کیس کی سماعت کریں گے۔ نیب حکام جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر حمزہ شہباز کو عدالت میں پیش کریں گے اور حمزہ شہباز کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعاکی جائے گی، حمزہ شہباز کے خلاف احتساب عدالت میں2 کیسز زیر سماعت ہیں۔ احتساب عدالت میں حمزہ شہباز کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ، جوڈیشل کمپلیکس آنے والے راستوں کو کنٹینرز اور خاردار تاریں لگا کربندکر دیا گیا اور پولیس کی اضافی نفری احتساب عدالت کے اندر اور باہر تعینات ہیں۔ گذشتہ سماعت میں عدالت نے دلائل کے بعد جسمانی ریمانڈ میں 10 جولائی تک توسیع کرتے ہوئے نیب حکام کو ہدایت کی تھی کہ آئندہ حمزہ شہباز کو پورے دس بجے پیش کیا جائے کیونکہ سیکیورٹی انتظامات اور تاخیر کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یاد رہے 5 جولائی کو احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز کیس میں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے بیس جولائی تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا تھا۔ واضح رہے نیب نے لاہور ہائی کورٹ کی عبوری ضمانت میں توسیع مسترد ہونے کے بعد حمزہ شہباز کو گرفتار کیا تھا ،حمزہ شہبازپرمنی لانڈرنگ اور غیر قانونی اثاثےبنانے کے الزامات ہیں۔ بعد ازاں حمزہ شہباز کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا ، جہاں عدالت نے حمزہ شہباز کو 26 جون تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا۔ نیب نے حمزہ شہباز کی گرفتاری کی وجوہ بھی جاری کیں تھیں، نیب نے کہا تھا 2003 میں حمزہ شہباز کے اثاثے 18 ملین تھے اور 2017 تک اثاثے 411.630 ملین ہوگئے، جب کہ ملزم نے 181 ملین روپے باہر سے آمدن کا دعویٰ کیا تھا۔ خیال رہے منی لانڈرنگ اورآمدن سےزائد اثاثوں پر شریف فیملی کےخلاف مختلف زاویوں سےتحقیقات جاری ہے ، الزامات کے مطابق شریف فیملی کے انیس سو ننانوے میں اثاثہ جات پانچ کروڑچھتیس لاکھ تھے،اب ان کی دولت سواتین ارب کیسےہوگئی؟