ناسا نے زحل کے چاند کے لیے نئے مشن کا اعلان کردیا

پیساڈینا، کیلیفورنیا: (کوہ نور نیوز) قارئین کو یاد ہوگا کہ چند ماہ قبل پتا چلا کہ سیارہ زحل (سیٹرن) کے ایک مشہور چاند اینسلیڈیئس کی برفیلی سطح کے نیچے ایسے مرکبات موجود ہیں جن میں کاربن پایا جاتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ کاربن والے نامیاتی مالیکیول کسی بھی جگہ زندگی کی نوید دے سکتے ہیں تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ ٹائٹن پر بھی زندگی کا پتا دینے والے سالمات موجود ہوسکتے ہیں اور اسی لیے ناسا نے سیارہ جاتی مشن کے لیے ٹائٹن کا انتخاب کیا ہے۔ ایٹمی توانائی سے چلنے والا یہ روبوٹ سطح پر نہیں چلے گا بلکہ اپنے 8 پنکھوں کی مدد سے ٹائٹن کی فضا میں اڑے گا اور وہاں نامیاتی مرکبات اور آثار تلاش کرے گا۔ لیکن اول تو ٹائٹن ہماری زمین سے 1.4 ارب کلومیٹر دور ہے دوم وہاں کی فضا میں میتھین گیس بھری ہوئی جو ہم چولہے میں جلاتے ہیں۔ تیسری رکاوٹ یہ ہے کہ ٹائٹن کا درجہ حرارت منفی 179 درجے سینٹی گریڈ ہے۔ اس طرح یہ سب امور مل کر اس خلائی مشن کو مشکل بناتے ہیں لیکن ناسا کے ماہرین ان چیلنجز سے بخوبی واقف ہیں۔ ناسا نے اس پروجیکٹ کا نام بھنبھیری یا ڈریگن فلائی رکھا ہے۔ ٹائٹن پر ثقلی قوت زمینی قوت کے 0.133 حصے کے برابر ہے اور فضا زمین سے چار گنا کثیف ہے۔ ٹائٹن پر ندی ، دریا اور سمندر موجود ہیں جو ہائیڈروکاربنز پر مشتمل ہیں۔ پھر فرش پر اونچے نیچے راستے ہیں اور شاید نامیاتی برف بھی ہے۔ اسی وجہ سے ٹائٹن پر کسی گاڑی کو بھیجنا کسی بھی طرح مفید نہ ہوگا۔ ابھی منزل بہت دور ہے اور ڈریگن فلائی کو 2026ء میں ٹائٹن کی طرف بھیجا جائے گا جو 2034ء میں وہاں اترے گا۔ نیوکلیائی قوت کی بدولت اس کا ریڈیو تھرمل جنریٹر کام کرے گا اور خلائی جہاز کو 36 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرے گا۔ انجینیئروں نے پورے خلائی جہاز کو بچانے کے لیے خاص مٹیریل تیار کیا ہے جو اسے تباہ کن ماحول سے بچائے گا۔ جدید ترین آلات میں ماس اسپیکٹرو میٹر، گیما رے اور نیوٹران اسپیکٹرومیٹر لگے ہیں۔ علاوہ ازیں جیوفزکس کے جدید ترین آلات بھی موجود ہے جو ٹائٹن کے اندر کی خبر لیں گے۔ اس مشن سے وابستہ ناسا کے ماہر تھامس زربیوکین نے کہا کہ ٹائٹن ایک غیرمعمولی مقام ہے اور خود ڈریگن فلائی مشن بھی ایک انوکھا پروگرام ہے، یہ بہت دور کی ایک دنیا میں نامیاتی مرکبات کی تلاش کا اہم کام کرے گا۔