ایپل نے چینی مصنوعات پر امریکا کی طرف سے عائد ڈیوٹی کی مخالفت کردی

لاہور: (کوہ نور نیوز) ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے چینی مصنوعات پر لگائی جانے والی ڈیوٹی کے تجویز کردہ ٹیرفس کے خلاف اٹھنے والی آوازوں میں اپنی آواز شامل کرلی ہے۔ امریکا کا کہنا تھا کہ دونوں طرف سے تجارتی معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں وہ چینی مصنوعات پر 300 بلین ڈالر کی ڈیوٹی لگا سکتا ہے۔ ایپل کی جانب سے وائٹ ہاؤس کو لکھے گئے ایک خط میں ٹیرف پلان کو کم کرنے کا کہا گیا ہے۔ ایپل کا کہنا ہے کہ لگائی گئی ڈیوٹی سے عالمی سطح پر مقابلہ سخت ہو جائے گا اور ان کے حریفوں کے لیے آسانی پیدا ہو جائے گی۔ اس ضمن میں کمپنی کا کہنا ہے کہ تجویز کردہ ٹیرفس کا اس کے تمام پراڈکٹس آئی فون، آئی پیڈز اور ائیر پوڈز سمیت ان تمام پراڈکٹس کی امریکا میں مرمت کے لیے استعمال ہونے والے پارٹس پر بھی اثر پڑے گا، اس لیے بہت شدت سے چاہ رہا ہے کہ امریکی حکومت ان پراڈکٹس پر ٹیرفس نہ لگائے۔ ایپل نے اپنے خدشات بھی ظاہر کیے ہیں کہ اس سے ان کے ہواوے جیسے بڑے چینی حریفوں کو ان کے مقابلے پر آنے کا موقع مل جائے گا۔ ہواوے کو امریکی مارکیٹ تک رسائی بھی ہے اور یہ ٹیرفس اسے متاثر بھی نہیں کرسکیں گے۔ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان جاری اس تجارتی جنگ کے بعد سلی کون ویلی نے سپلائرز کو چین سے کچھ پراڈکٹس کی پروڈکشن منتقل کرنے کے بارے میں منصوبہ بندی کرنے کا بھی کہا ہے۔ دیگر ٹیکنالوجی فرمز جیسے مائیکرو سوفٹ، ڈیل اور ایچ پی کا کہنا ہے کہ تجویز کردہ ٹیرفس لیپ ٹاپس اور ٹیبلیٹس کی قیمتوں میں کم از کم 19 فی صد اضافے کا سبب بنیں گے۔ ان ٹیرفس سے متاثر ہونے والی تمام کمپنیوں کی نظریں اب امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر ژی جن پنگ کی ملاقات پر لگی ہوئی ہیں جو رواں مہینے کے آخر میں جاپان میں ہونے والی جی 20 سمٹ میں ہو سکتی ہے۔