خاتون کے پیٹ میں سرجیکل قینچی 23 سال تک موجود رہی

روس : (کوہ نور نیوز) روس سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو حال ہی میں پیٹ میں اٹھنے والے شدید درد کے بعد معلوم ہوا کہ وہ 2 دہائیوں سے زائد عرصے سے سرجری میں استعمال ہونے والی قینچی کو پیٹ میں لیے پھر رہی ہیں۔ ازیٹا گوبیوا کا تعلق روس کے شمالی حصے سے ہے وہ 1996 سے ہونے والے سیزیرین آپریشن کے بعد سے پیٹ میں شدید درد کی شکایت میں مبتلا تھیں۔ ڈاکٹرز اس درد کو جگر کا مسئلہ سمجھتے رہے اور ازیٹا کو درد کش ادویات نسخے میں لکھ کر دیتے رہے۔ ازیٹا کا کہنا ہے کہ اتنے عرصے تکلیف میں رہنے کے بعد حال ہی میں انہیں ایکسرے کروانے کا کہا گیا کیونکہ درد کش ادویات سے صرف انہیں وقتی آرام مل رہا تھا۔ ایکسرے میں معلوم ہوا کہ ان کے پیٹ میں سرجری کے دوران استعمال ہونے والی قینچی موجود ہے جس کے بارے میں ازیٹا کا خیال ہے کہ سیزرین آپریشن کے دوران سرجن ان کے پیٹ میں بھول گئے ہوں گے اور اس سرجری کے بعد ان کا کوئی آپریشن نہیں ہوا تھا۔ ازیٹا کا بتانا ہے کہ اس سرجری کو بھی 23 سال گزر چکے ہیں۔ ایک مقامی اخبار کو اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ایکسرے کرنے والا ریڈیولوجسٹ خود اس قینچی کو میرے پیٹ میں دیکھ کر حیران رہ گیا تھا، وہ یہ سمجھا کہ خاتون غلطی سے یہ قینچی ایکسرے روم میں لے آئی ہیں۔ خاتون کا کہنا تھا کہ وہ یہ ایکسرے امیج دیکھ کر گنگ رہ گئیں اور رونا شروع کر دیا۔ سرجیکل کلیمپ یا قینچی اصل میں سرجری کے دوران ڈاکٹرز ٹشوز اور روئی پکڑنے کے کام لاتے ہیں۔ اس کلیمپ کو نکالنے کے لیے ازیٹا کا ایک اور آپریشن طے کر دیا گیا ہے۔ روس میں اس کیس کو لے کر بہت سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور روسی وزارت صحت کے ترجمان کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ وزارت خود اس معاملے کی تحقیقات کی نگرانی کرے گی۔ وزارت کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ ازیٹا کے اس آپریشن کے اخراجات وزارت اٹھائے گی اور 23 سال میں اٹھائے جانے والی اذیت کا ہرجانہ بھی ادا کیا جائے گا۔