وفاقی حکومت نے 70 کھرب 22 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا

اسلام آباد: (کوہ نور نیوز) وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر کا کہنا ہے کہ مالی بحران آنے کی وجہ سب کو پتہ ہونا چاہیے، کرپشن ختم کر کے اداروں میں میرٹ کی بنیاد رکھیں گے، اقتدار سنبھالا تو معیشت بحران کا شکار تھی۔ کرپشن ختم کر کے اداروں میں میرٹ کی بنیاد رکھی۔ تحریک انصاف نئی سوچ اور نیا پاکستان کے تحت اقتدار میں آئی۔ بجٹ میں رضاکارانہ کمی کرنے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے شکر گزار ہیں۔ دفاعی بجٹ پر کوئی کمپرومائز نہیں کرینگے۔ قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے حماد اظہر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے ملازمین کی تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ ایک سے 16 گریڈ کے ملازمین کی تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ ہو گا۔ 17 سے 20 گریڈ کی تنخواہ میں 5 فیصد اضافہ ہو گا۔ گریڈ 21 سے 22 کے لوگوں کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔ کابینہ کے تمام وزراء نے اپنی سیلری کو 10 فیصد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت نے کم ازکم تنخواہ 17 ہزار 500 مقرر کی ہے ، تنخواہوں میں اضافہ 2017ء سے جاری تنخواہ پر ہو گا۔ وزیر مملکت برائے ریونیو کا کہنا تھا کہ بجٹ خسارہ 3 ہزار 137 ارب روپے ہے۔ بجٹ کا تخمینہ 7022 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے پر برقرار رہے گا۔ جی ایس ٹی کی شرح 17 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بیکری اور ہوٹل میں استعمال ہونے والی اشیاء پر جی ایس ٹی 4.5 فیصد ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے لیے 5500 ارب کا ہدف رکھا گیا ہے۔ پاکستان میں جی ڈی پی کی شرح خطے میں سب سے کم ہے، بجلی کے کل 3 لاکھ 44 ہزار کنکشن ہے، صرف 40 ہزار سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہیں۔ ٹیکس کا نظام بہتر کرینگے۔ بجٹ میں صوبوں کے لیے 3 ہزار 255 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومتوں نے ٹیکس کی وصولی میں کوئی کام نہیں کیا، ملکی آبادی میں صرف 19 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں۔ ایل این جی پر کسٹم ڈیوٹی 7 سے کم کر کے 5 فیصد کر رہے ہیں، معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے لیے اہم ہے، حکومت نے اصلاحات کا نظام متعارف کرا دیا ہے۔ کاغذ پر ڈیوٹی بھی کم کر دی ہے۔ وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ خوراک کی صنعت کیلئے بھی پیسے رکھے گئے ہیں۔ عام آدمی کے لیے دوائیوں کی قیمت میں کمی کر رہے ہیں۔ کچھ ادویات پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ کراچی ، پشاور، کوئٹہ میں سمگلنگ روکنے کے لیے سخت اقدامات کر رہے ہیں۔ وزیر مملکت برائے ریونیو کا کہنا تھا کہ سالانہ 6 لاکھ روپے تنخواہ لینے والوں کو ٹیکس نہیں دینا ہو گا۔ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 29 فیصد پر برقرار رہے گی۔ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ غیر مقنولہ جائیداد پر ٹیکس دو فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کر دیا گیا ہے۔ غیر منقولہ جائیداد کی مارکیٹ ویلیو کو 85 فیصد تک لایا جا رہا ہے۔نان فائلرز کے لیے جائیداد کی پابندی ختم کردی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نان فائلر 50 لاکھ روپے سے زائد کی جائیداد خرید سکیں گے۔ 50 لاکھ سے زائد رقم کی ترسیل پر پوچھ گچھ ہو گی اور شہری کو آمدن کے ذرائع بتانے ہونگے۔ لگژری آئٹمز کی درآمد پر ڈیوٹی میں اضافے کی تجویز ہے۔ وزیر مملکت برائے ریونیو کا کہنا تھا کہ خالی پلاٹ 10 سال میں فروخت کیا تو گین ٹیکس دینا ہو گا۔ شفاف اور خوف سے پاک ٹیکس نظام لانا چاہتے ہیں، ٹیکس نظام میں جمود توڑنے کے لیے فرضی کے بجائے حقیقی آمدن پر ٹیکس لاگو ہو گا۔ تنخواہ اور غیر تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں اضافہ کر دیا گیا۔ وزیر مملکت برائے ریونیو کا کہنا تھا کہ سونے، چاندی، ہیرے کے زیورات پر سیلز ٹیکس بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، چینی پر سیلز ٹیکس 8 سے بڑھا کر 17 فیصد کر دیا گیا جس سے چینی کی قیمت میں ساڑھے 3 روپے فی کلو اضافہ ہو جائے گا۔ کولڈ ڈرنکس پر سیلز ٹیکس 11.5 سے بڑھا کر 13 فیصد کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سگریٹ میں کی ایف ای ڈی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ سگریٹ کی فی ڈبی 10 سے 14 روپے مہنگی ہو جائے گی۔ سگریٹ پینے والوں سے 147 ارب روپے کی ایکسائز ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔ ایک ہزار سگریٹ پر پہلے ٹیکس 4 ہزار 500 روپے تھا جو اب 5 ہزار 200 روپے کر دیا گیا ہے، سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز کی ڈیوٹی میں ڈیڑھ روپے سے بڑھا کر دو روپے فی بوری کر دی گئی ہے۔ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ایک ہزار سی سی کی گاڑی پر 2.5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ دو ہزار سی سی پر پانچ فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ دو ہزار سے زائد سی سی کی گاڑی پر 7 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ خشک دودھ اور پنیر کی درآمد پر دس فیصد ٹیکس لگایا جائے گا۔ گھی اور کوکنگ آئل پر ایکسائز ڈیوٹی 17 فیصد کر دی گئی۔ کاروبار کے لیے رجسٹریشن کا مرحلہ آسان بنایا جا رہا ہے۔ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ملکی قرضہ 31 ہزار ارب روپے ہے، 97 ارب ڈالر بیرونی قرضوں کا سامنا ہے، دو سال کے دوران سٹیٹ بینک کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے گرتے 10 ارب ڈالر رہ گئے۔ بجلی کے نظام کا گردشی قرضہ 1200 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ گردشی قرضہ 38 ارب روپے ماہانہ کے حساب سے بڑھ رہا ہے جسے 26 ارب تک لے آئے ہیں۔آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا گیا، چین، سعودی عرب، یو اے ای سمیت دیگر دوستوں کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے ملکی مشکل صورتحال میں ہماری مدد کی۔ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ سٹیٹ بینک کو خود مختاری دی گئی ہے۔ ٹیکس پالیسیوں کو ٹیکس انتظامیہ سے الگ کیا گیا ہے، حکومت کی رقم کمرشل بینکوں میں رکھنا منع ہے، ایف بی آر نے سرمائے کی کمی کو دور کرنے کے لیے 147 ارب روپے کے ریفنڈ جاری کیے۔ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ بینکوں میں 5 کروڑ اکاؤنٹس ہیں، صرف 10 فصد ٹیکس دیتے ہیں، بہت سے پیسے والے لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔ جب تک ٹیکس کے نظام کو صحیح نہیں کرینگے پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔ اب اس حالات پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں تنخواہوں کے لیے بھی قرض لینا پڑتا ہے۔ احتساب کا نظام اور طرز حکمرانی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، برآمدات میں اضافے کے لیے ڈیوٹی سٹرکچر پر کام کریں گے۔ وزیر مملکت برائے ریونیو کا کہنا تھا کہ ملک میں 75 فیصد لوگ 300 یونٹ استعمال کرتے ہیں، جس کے لیے سبسڈی کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، حکومت نے ایک غربت کے خاتمے کے لیے نئی وزارت بنائی ہے، احساس مدد سے غریبوں، بیواؤں، یتیم لوگ فائدہ اٹھا سکیں گے۔ حکومتی اخراجات 460 ارب سے کم کر کے 431 کر رہے ہیں۔ معذور افراد کو وہیل چیئر دیں گے، تعلیم میں پیچھے رہ جانے والے افراد کو خصوصی ترکیب دی جائیگی۔ احساس پروگرام کے تحت بی آئی ایس پی 57 لاکھ انتہائی غریبوں کو 5 ہزار نقد دی جاتی ہے اس کے لیے 110 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ نئی راشن کارڈ سکیم شروع کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ خسارے کے لیے سٹیٹ بینک سے قرض نہیں لیں گے، ترقیاتی بجٹ میں 1800 ارب روپے رکھے گئے ہیں، بجلی کے منصوبوں، سی پیک ترجیح ہونگے۔ ترقیاتی بجٹ کے لیے 93 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ دیا میر بھاشا ڈیم کے لیے زمین حاصل کرنے کے لیے 20 ارب روپے رکھے گئے ہیں، مہمند ڈیم کے لیے 15 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ نیشنل ہائی وے کے لیے 170 ارب روپے خرچ کیے جائینگے۔ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ موٹروے اور سڑکیں بھی بنائیں گے، انسانی ترقی کے لیے تقریبا 60 ارب روپے تجویز کیے جا رہے ہیں، موسمی تبدیلیاں کیلئے بھی خطیر رقم کر رہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے ریکارڈ فنڈز رکھے جا رہے ہیں۔ زراعت صوبائی محکمہ ہے تاہم اس کے لیے خطیر رقم کی گئی ہے۔ وفاقی پروگرام کے لیے 12 ارب رکھے گئے ہیں۔ 10.4 ارب روپے کوئٹہ ڈویلپمنٹ کے لیے ہونگے۔ کراچی کے ترقیاتی پیکیج کے تحت ان کا کہنا تھا کہ 9 منصوبوں کے لیے ساڑھے 45 ارب روپے رکھے جائینگے۔ روزگار پیدا کرنا پہلی ترجیح ہے، لاہور، کوئٹہ، پشاور، فیصل آباد سمیت دیگر علاقوں میں جگہ اکٹھی کر لی گئی ہے۔ نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم پورے ملک میں پھیلے گئی۔ اس سے بیرونی سرمایہ کاری آئے گی۔ فنڈز کا بندوبست کر رہے ہیں۔ ماہی گیروں کے لیے ہاؤسنگ سکیم کم قیمت ہوگی۔ نیا کاروبار کرنے کے لیے سستے قرضے دیئے جائینگے۔ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ صنعتی شعبے کے لیے پیسے رکھے گئے ہیں۔ بجلی اور گیس 40 ارب روپے کی سبسڈی، لانگ ٹرم سبسڈی بھی رکھی گئی ہے، گیس کا گردشی قرضہ 150 ارب روپے ہے۔ زرعی شعبے کو اوپر اٹھانے کے لیے 280 ارب روپے کا 5 سالہ پروگرام لا رہے ہیں، ان کے چند اہم نکات ہیں، پانی کے استعمال کے لیے نیا سٹرکچر بنایا جائے گا۔ پانی کے وسائل کے لیے 218 ارب روپے خرچ کیے جائینگے۔ گندم، چاول، کپاس فی ایکڑ میں اضافے کے لیے 44.8 ارب روپے رکھے جائینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماہی گیروں کے لیے 9.3 ارب روپے رکھے جائینگے۔ بلوچستان کے کسانوں کے لیے مشترکہ سکیمیں شروع کی ہیں، بلوچستان کے لیے 11 ارب روپے کے فنڈز رکھے گئے ہیں۔ چھوٹے کسان کی فصل خراب ہونے کے لیے انشورنس مہیا کرینگے۔ فصلوں کی انشورنس کے لیے 2.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ تقریر کے دوران حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ایل این جی سے چلنے والے دو بجلی گھروں کی نجکاری کی جائے گی۔ نجکاری سے 150 ارب روپے کا خطیر ریونیو ملے گا۔ سٹیل ملز چلانے کے لیے بیرون سرمایہ کاروں سے رابطے کر رہے ہیں۔ گردشی قرضہ بلوں کی وصولی نہ ہونے کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی چوروں کے لیے منظم کارروائی شروع کی ہے، پچھلے چھ ماہ کے دوران 80 ارب روپے وصول کیے ہیں، 80 فیصد علاقوں میں لوڈ شیڈنگ ختم ہو گئی ہے۔ حماد اظہر کا کا کہنا تھا کہ ضم علاقوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 152 ارب روپے فراہم کیے جائینگے۔ ان پیسوں میں 10 سالہ پروگرام ترقیاتی منصوبہ بھی شامل ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے لیے زراعت، خصوصی اکنامک زونز، صنعتی ترقی کا حصول، ریلوے کے لیے ایم ایل ون کے لیے بھی رقم مختص کی گئی ہے۔ منی لانڈرنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ لعنت ہے، اس سے ملک کی بدنامی ہوتا ہے، معاشی نقصان بھی ہوتا ہے، اس کو ختم کرنے کے لیے اینٹی منی لانڈرنگ کا نیا نظام لا رہے ہیں، سٹیٹ بینک افراط زر بنانے کے لیے وسیع پالیسی بنائے گا۔ موبائل فون کے لائسنس سے ایک ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔ اس دوران وفاقی بجٹ کے دوران اپوزیشن کے رہنمائوں نے ایوان میں حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ وزیراعظم کے خلاف نعرے لگائے جس میں کہا گیا کہ ’’مک گیا تو شو نیازی، گو نیازی گو‘‘ کے بھی نعرے لگائے۔ اپوزیشن نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس پر لکھا تھا کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے۔ انہوں نے بلند شگاف نعرے لگائے کہ ہم یہ بجٹ مسترد کرتے ہیں۔ بجٹ کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں لہراتے رہے۔ اس دوران حکومت اور اپوزینش کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ مسلم لیگ ن کے مرتضیٰ عباسی اور تحریک انصاف کے شاہد خٹک میں لڑائی ہوئی۔ احتجاج کے دوران حکومتی ارکان بھی اپوزیشن کے سامنے آ گئے اور ہاتھوں کی زنجیر بنا لی۔ بجٹ کے پیش کرنے کے بعد قومی اسمبلی کے سپیکر اجلاس کو جمعہ کے روز تک ملتوی کر دیا گیا۔