'سیاسی اختلافات، غیر حل شدہ تنازعات خطے کے مسائل کو مزید گھمبیر بنا رہے ہیں'

بشکک: (کوہ نور نیوز) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن و خوشحالی کے لیے سفارت کاری اور نتیجہ خیز مذاکرات ناگزیر ہیں، سیاسی اختلافات اور غیر حل شدہ تنازعات اس خطے میں مسائل کو مزید گھمبیر بنا رہے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پائیدار ترقی، ماحول، اجتماعی سلامتی و بہبود جیسے چیلنجز دنیا میں اہمیت پارہے ہیں اور مسائل کا حل اجتماعی کوششوں اور تعاون پر مبنی انداز فکر میں مضمر ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یاد رکھنا ہوگا کہ اگر ہم امن چاہتے ہیں تو پھر انصاف سے کام لینا ہوگا، ہماری کوششیں افغانستان میں مرکوز ہیں تاکہ پائیدار علاقائی استحکام کی راہ ہموار ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ افغانوں کے اپنے اور قبول کردہ حل پر اصرار کیا ہے، یہ امر باعث اطمینان ہے کہ امن اور مفاہمت کے فروغ کے لیے بات چیت کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ وزیر خارجہ نے امید کا اظہار کیا کہ آگے بڑھتے ہوئے افغانستان کے ہمسایوں اور دیگر فریقین کو امن عمل میں شامل رکھا جائے گا اور پاکستان اس عمل میں سہولت کاری فراہم کرتا رہے گا اور امید ہے کہ دوسرے بھی اس مشترکہ ذمہ داری میں اس کی حمایت کریں گے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ہمارے تصور میں ایشیاء میں مشترکہ خوشحالی کی سوچ پنہاں ہے، بحری، بری اور فضائی راستوں کی بدولت پاکستان جغرافیائی اہم محل وقوع پر واقع ہے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا ہم غیر قانونی قبضے کے تحت لوگوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی سمیت اس کی ہر قسم کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے جس نے دہشت گردی کا کامیابی سے مقابلہ کیا اور اس لہر کو پلٹ کر رکھ دیا، پاکستان ایس سی او اسٹرکچر کے تحت دوستوں کے ساتھ اپنا تجربہ اور مہارت بانٹنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے علاقائی انسدادِ دہشت گردی اسٹرکچر کے تحت معاملے میں عملی تعاون قابل تحسین ہے، دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کا حل انتہائی ناگزیر تقاضہ ہے اور ہمیں ان دیرینہ تنازعات کو حل کرنا ہوگا۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن و خوشحالی کے لیے سفارتکاری اور نتیجہ خیز مذاکرات ناگزیر ہیں، ہم نے کرتار پور راہداری کے ذریعے ’شنگھائی اسپرٹ‘ کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کرتار پور راہداری پر کام کا آغاز کردیا ہے، بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کو مذہبی مقام پر رسومات کی ادائیگی میں سہولیات مہیا ہوں گی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایس سی او کو اپنے ادارہ جاتی فریم ورک اور دائرہ کار میں وسعت لانی چاہیے، بشکک میں ہی منعقدہ اجلاس میں 2007ء میں اچھی ہمسائیگی، دوستی اور تعاون کا معاہدہ ہوا تھا، رکن ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے طریقہ کار کو اس میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایس سی او کو رکن ممالک میں رابطوں کو استوار کرنے کے لئے ادارہ جاتی استعداد کار بڑھانے پر توجہ دینا ہوگی، پاکستان تنظیم کی یوتھ کونسلز میں شمولیت کا منتظر ہے، ایس سی او ڈویلپمنٹ فنڈ اور بینک کے قیام کے لیے کام کیا جائے، مقامی کرنسی میں تجارت کی تجویز کو حتمی شکل دی جائے اور ایس سی او کو کرپشن اور وائٹ کالر جرائم کے انسداد کے لئے جامع بین الاقوامی فریم ورک مرتب کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کی پیداوار، ترسیل اور طلب کے تدارک کے لیے زیادہ مؤثر انداز میں کوششیں شروع کی جائیں، ایس سی او کا علاقائی اثر و نفوز اور تشخص بڑھ رہا ہے جس سے اربوں لوگوں کی توقعات بھی بڑھ رہی ہیں۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا ہم نے عملی کام کی بنیاد رکھ دی ہے، اب شنگھائی تعاون تنظیم کو مضبوط عمارت کھڑی کرنا ہے۔