سیاست کوچھوڑکرنیب کیس کے میرٹس دیکھے، جسٹس احمد علی شیخ

کراچی: (کوہ نور نیوز) سابق وفاقی وزیرظفرعلی لغاری کے خلاف اثاثہ جات کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیوں نیب والے اپنے قومی ادارے کے پیچھے پڑےہیں؟۔ تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیرظفرعلی لغاری کے خلاف اثاثہ جات کیس کی سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ ظفرعلی لغاری کے خلاف کس کی شکایت پرتحقیقات شروع کی۔ نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ملزم کے خلاف پی ٹی آئی ورکرکی شکایت پرتحقیقات شروع کی، عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا پی ٹی آئی کا کارکن ہونا انکوائریوں کا پیمانہ ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ نیب کا یہ معیارہوگیا کسی ورکرکی شکایت پرتحقیقات کرے، عدالت نے ڈائریکٹرنیب کوبھی روسٹرم پرطلب کیا۔ جسٹس احمدعلی شیخ نے استفسار کیا کہ کیا نیب ایسے لوگوں کی پگڑیاں اچھالے گا؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیوں نیب والے اپنے قومی ادارے کے پیچھے پڑے ہیں؟ ۔ نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ظفرلغاری1992میں بے نظیربھٹوکے دورمیں وفاقی وزیرتھے، سندھ ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ شکایت کرنے والے کا سورس آف انکم کیا ہے، نیب نے معلوم کیا؟۔ نیب تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ شکایت کنندہ عام شہری ہے، جسٹس احمدعلی شیخ نے ریمارکس دیے کہ سیاست کوچھوڑکرنیب کیس کے میرٹس دیکھے۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی وزیرظفرلغاری کوپیشی پرآنے سے روک دیا اور نیب کوشکایت کنندہ کے خلاف تحقیقات کاحکم دیتے ہوئے 2 ہفتےمیں رپورٹ طلب کرلی۔