خودکار کسان روبوٹ اگلے برس سے عام دستیاب ہوگا

سڈنی آسٹریلیا: (کوہ نور نیوز) اب سے کچھ برس قبل دنیا میں اگیرس کمپنی کے روبوٹک کسانوں کا تذکرہ بہت مشہور ہوا تھا لیکن اب اس میں مزید تبدیلیاں کرکے اسے مصنوعی ذہانت ( اے آئی) سے لیس کرکے مزید دوسرے کئی کام کرنے کا اہل بنایا گیا ہے۔ 2020 میں کسان روبوٹ تجارتی پیمانے پر عام دستیاب ہوگا اس سے قبل 2016 کا یہی روبوٹ ریموٹ کنٹرول سے قابو کیا جاتا تھا۔ یہ فصلوں، کھیتوں اور چراہ گاہوں کی نگہداشت کرنے کے علاوہ فصل دشمن گھاس پھوس (ویڈز) کی نشاندہی بھی کرسکے گا۔ اگلے مرحلے میں اسی روبوٹ کسان کو روبوٹ چرواہا بنایا جائے گا جو گائے بھینسوں کو چرانے اور ان کی نگہداشت کرتے ہوئے وائرلیس کے ذریعے اس کی خبر اصل گڈریئے کو روانہ کرے گا۔ اسے بنانے والی کمپنی کا ہدف یہ ہے کہ روبوٹس کے ذریعے فصلوں اور مال مویشیوں کے ریوڑ کا خیال رکھا جائے جبکہ چھوٹے دہقانوں کے لیے ڈجیٹل فارم ہینڈ نامی ایک اور پروجیکٹ پر بھی کام جاری ہے لیکن اس کی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔ تاہم کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ غریب اور ترقی پذیر ممالک کی پہنچ میں بھی ہوگا۔اے آئی کی بدولت یہ فصلوں کی پیداوار کا حساب کتاب لگانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے ۔ اس پر روبوٹک بازو لگایا جائے گا جس کے ذریعے یہ ازخود مضر گھاس اکھیڑ کر انہیں تلف کرتا رہے گا۔ اگلے مرحلے میں فصلوں کا اسپرے بھی یہ خود کرے گا۔ زرعی خودکاریت (آٹومیشن) کے ماہرین کہتے ہیں کہ اگلے دس برس میں فصلوں اور کھیتوں پر خودکار روبوٹ اور ازخود فیصلہ کرنے والے مربوط نظام عام ہوجائیں گے۔ یہ نظام کسانوں کا بوجھ کم کریں گے اور اس کا خرچ بھی بہت مناسب ہوگا۔