'بالکل نیا طیارہ ایک سال میں دو دفعہ گر چکا، یہ انتہائی مشکوک ہے'

نیروبی: (کوہ نور نیوز) ایتھوپین ائیر لائن کے طیارے 737 میکس کو حادثہ پیش آنے کے بعد چین نے اپنے تمام بوئنگ 737 میکس 8 طیاروں کو گراؤنڈ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ چین کی سول انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جدید طیارہ 737 میکس 8 گذشتہ پانچ ماہ کے دوران دو مرتبہ حادثے کا شکار ہوا اور یہ حادثات پرواز کے اُڑان بھرنے کے بعد پیش آئے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز ایتھوپین ائیر لائن کا ادیس ابابا سے نیروبی جانے والا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں 157 افراد سوار تھے۔ بوئنگ737 طیارے میں 149 مسافر اور عملے کے 8 ارکان موجود تھے اور حادثے میں کسی بھی مسافر کے زندہ بچنے کی کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔ چین نے اس طیارے کے محفوظ ہونے پر بھی کئی سوالات اُٹھا دئے ہیں۔ تمام چینی ائیرلائنز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ بوئنگ 737 میکس 8 پر جانے والی تمام پروازوں پر معطل کر دیں۔ جبکہ کچھ اطلاعات کے مطابق کئی روٹس کی پروازوں کے طیاروں کو تبدیل کر کے ان کی جگہ پُرانے جہازوں کو بھجوایا جائے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بوئنگ 737 میکس 8 اس وقت دنیا کے معروف ترین اور جدید ترین جہازوں میں سے ایک ہے جسے دنیا بھر کی ائیرلائنز استعمال کرتی ہیں لیکن اس طیارے میں تکنیکی خرابی اور گذشتہ 5 ماہ کے دوران دو جہازوں کے کریش ہونے کی وجہ سے کئی ائیرلائنز محتاط ہو گئی ہیں اور اس جہاز کو گراؤنڈ کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس جہاز کو کم قیمت پروازوں کے لیے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ بوئنگ 737 میکس 8 جہاز کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر کے ایک جدید ترین نوعیت کا جہاز بنایا گیا تھا لیکن اس میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی کی وجہ سے اس جہاز کو مشکلات کا سامنا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ فلائی دبئی اور پاکستان آنے والی متعدد ائیرلائنز بھی اسی طیارے کا استعمال کرتی ہیں جس کے بعد طیارے کو گراؤنڈ کرنے کا مطالبہ مزید زور پکڑ گیا ہے۔ گزشتہ پانچ مہینوں میں یہ دوسرا واقعہ ہے کہ 737 میکس 8 ماڈل کا طیارہ کسی حادثے کا شکار ہوا ہے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں گرنے والا طیارہ انڈونیشیا کی لائن ایئر کا تھا اور دونوں حادثوں میں ملوث طیاروں کے درمیان موازنہ کیا جا رہا ہے۔ لائن ایئر کا طیارہ اڑان بھرنے کے فوراً بعد آسمان سے گرنا شروع ہو گیا تھا۔ 737 میکس 8 طیارہ بالکل نیا اور جدید طیارہ ہے اور سال 2017 سے اس کا کمرشل استعمال شروع ہوا ہے۔ لائن ایئر کے حادثے کی تحقیقات کرنے والوں نے کہا تھا کہ پائلٹس کو طیارے کے ایک خود کار سسٹم کے ساتھ مشکل پیش آ رہی تھی۔ یہ خود کار سسٹم طیارے کی ایک نئی خصوصیت تھی اور اس کا مقصد طیارے کے انجن کو بند یا سٹال ہونے سے روکنا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس سسٹم کی وجہ سے طیارہ بار بار منھ کے بل نیچے جاتا تھا اور پائلٹس کئی کوششوں کے باوجود وہ اسے قابو میں نہ لا سکے۔ اس بارے میں نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے امریکہ کے ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کی سابق انسپکٹر جنرل میری سکیاوہ کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی مشکوک بات ہے ۔ ہمارے پاس ایک بالکل نیا طیارہ ہے اور وہ ایک سال میں دو دفعہ گر چکا ہے۔ اس سے ہوا بازی کی صنعت میں خطرے کی گھنٹیاں بج جانی چاہیے، کیوںکہ ایسا عموماً نہیں ہوتا۔ اس طیارے کو استعمال کرنے والی متعدد جنوبی امریکہ کی ائیرلائنز نے کہا ہے کہ وہ مانیٹرنگ اور تحقیقات کر رہے ہیں۔ ساؤتھ ویسٹ ایئر لائنز کے پاس 31 ایسے طیارے ہیں جبکہ امیریکن ایئر لائنز اور ایئر کینیڈا دونوں کے پاس 24 طیارے ہیں۔ چینی کے ہوابازی کے نگراں ادارے نے بھی مقامی ہوائی کمپنیوں کو بوئنگ 737 میکس 8 کے استعمال سے روک دیا ہے۔ چین میں ان طیاروں کی تعداد 90 سے زیادہ ہے، اس پابندی کی وجہ سے ایئر چائنہ، چائنہ ایسٹرن ایئر لائنز اور چائنہ سدرن ایئر لایئز سمیت متعدد ہوائی کمپنیاں متاثر ہوں گی۔ طیارے کو تیار کرنے والی کمپنی بوئنگ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’کمپنی اس صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔‘